تعلیمی نصاب میں تبدیلی پر غور و خوض ، طلبہ و اساتذہ میں بے چینی

حیدرآباد ۔ 4 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : تعلیمی نصاب میں تبدیلی کی اطلاعات سے طلبہ واساتذہ میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ خدشات میں مبتلا رہتے ہیں ۔ حکومت تلنگانہ نے ریاست کے ہائی اسکول نصاب میں تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ صورتحال پیدا کردی ہے لیکن ابھی تک نصاب کو قطعیت دیئے جانے کے متعلق کوئی توثیق نہیں ہوئی جب کہ جاریہ تعلیمی سال اختتام کے مراحل میں داخل ہوچکا ہے اور جیسے ہی سالانہ امتحانات کی تکمیل ہوگی ۔ اساتذہ کی بھی تعطیلات شروع ہوجائیں گی ایسے میں دوبارہ اسکولوں کی کشادگی پر ہی نصاب انہیں مطالعہ کے لیے دستیاب ہوپائے گا جس سے اساتذہ کو خود پڑھانے میں دشواریاں ہوں گی تو ایسے میں طلبہ کے مستقبل کے متعلق غور کرنا پڑے گا ۔ حکومت نے ہائی اسکول کے نصاب میں تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے آئندہ سال بعض نئی کتب نصاب میں شامل کرنے کا تہیہ کیا ہے لیکن نصاب کی تیاری ابھی تک مکمل نہیں ہوپائی ہے ۔ نصاب کی عدم تیاری کے باعث ممکن ہے کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز پر نصابی کتب بازار میں دستیاب نہ رہیں ۔

خانگی اسکولوں کے ذمہ داران کے بموجب اسکولوں میں نصاب کی بروقت عدم موجودگی تعلیمی سال کے آغاز پر ہی طلبہ میں تبدیل شدہ نصاب کے مضامین سے دلچسپی ختم ہونے کا باعث بن جاتی ہے ۔ اسی لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ حکومت تبدیل شدہ نصاب تعلیمی سال کے آغاز سے قبل اشاعت کے بعد بازار میں پہنچا دے تاکہ طلبہ و اساتذہ اس سے بروقت استفادہ کو یقینی بنا سکیں ۔ سرکاری بالخصوص اردو میڈیم ، مدارس کے نتائج میں بہتری نہ ہونے کی وجوہات کا تجزیہ کرتے ہوئے ماہرین تعلیم نے بتایا کہ اس کی بنیادی وجہ عام طور پر انفراسٹرکچر بتائی جاتی ہے جب کہ اردو میڈیم مدارس میں تعلیمی سال کے آغاز پر نصابی کتب کی فوری عدم فراہمی کے سبب تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی طلبہ کی دلچسپی ان مضامین میں کم ہوتی چلی جاتی ہے جن مضامین کے کتب موجود نہیں ہوتے حکومت تلنگانہ نے آئندہ تعلیمی سال سے 6 ویں جماعت سے دسویں جماعت تک کے سماجی علوم اور تلگو زبان کے نصاب میں مکمل تبدیلی کا فیصلہ کر رکھا ہے ۔

اگر ان مضامین کی نصابی کتب فوری طور پر بازار میں دستیاب نہ ہونے کی صورت میں طلبہ کو کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اسی لیے حکومت کو چاہئے کہ وہ نصابی کتب کی قبل از وقت اشاعت و فروخت کو یقینی بنائے تاکہ طلبہ تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی درس و تدریس کا عمل شروع کرسکیں ۔ اسی طرح سماجی علوم کا جو نصاب تیار کیا جارہا ہے اس کے اردو و تلگو ترجمہ کو بھی قبل از وقت مکمل کرتے ہوئے تلگو و اردو میڈیم کے طلبہ کے لیے راحت کا سامان مہیا کرنا چاہئے ۔ عموماً نصاب کی تبدیلی کے بعد زائد از 6 ماہ تک مترجمین نصاب کے ترجمہ کا کام جاری رکھے ہوئے ہوتے ہیں اور تعلیمی سال کے اواخر میں نصابی کتب اردو میڈیم طلبہ تک پہنچتی ہیں ۔ اسی لیے ان کے نتائج پر اس کے مضر اثرات مرتب ہونے لگتے ہیں ۔ طلبہ کے مستقبل کو درخشاں و تابناک بنانے کے علاوہ سرکاری اسکولوں کے نتائج میں بہتری کے لیے یہ ضروری ہے کہ طلبہ کو تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی نصابی کتب فراہم کئے جائیں ۔۔