تشکیل تلنگانہ کے قطع نظر عام انتخابات کی تیاریاں

پہلے مرحلہ کی رائے دہی کے لیے منصوبہ بندی ، چیف الکٹورل آفیسر کا انکشاف
حیدرآباد ۔ 15 ۔ فروری : ( محمد شہاب الدین ہاشمی ) : ریاست کے 42 لوک سبھا حلقہ جات اور 294 اسمبلی حلقہ جات میں ماہ اپریل کے دوران منعقد ہونے والے انتخابات کے لیے بڑے پیمانے پر تیزی کے ساتھ انتظامات جاری ہیں اور ریاستی چیف الکٹورل آفیسر مسٹر بھنور لعل کے مطابق ریاست میں کسی بھی وقت انتخابات منعقد کرنے کے لیے الیکشن مشنری تیار ہے اور ریاست آندھرا پردیش کی تنظیم جدید ( علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل ) سے ان انتخابات کا کوئی تعلق نہیں رہے گا کیوں کہ ریاستی چیف الکٹورل آفس موجودہ ریاست کے 42 حلقہ جات لوک سبھا اور 294 حلقہ جات اسمبلی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسی مناسبت سے الیکشن کی تیاریاں تقریبا مکمل کرچکا ہے اور جب کبھی بھی مرکزی الیکشن کمیشن ریاست میں انتخابات منعقد کرنے کے لیے اشارہ دے گا ۔ فوری طور پر الیکشن مشنری ریاست میں حرکت میں آئے گی ۔ باوثوق سرکاری ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے ریاست میں منعقد ہونے والے پہلے مرحلہ کے تحت انتخابات کی تیاریوں کے لیے 150 کروڑ روپئے کی نہ صرف ابتدائی منظوری دی گئی ہے بلکہ یہ رقومات ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر کو جاری بھی کردئیے گئے ہیں ۔ یہاں تک کہ پہلے مرحلہ کے تحت منعقد ہونے والے انتخابی حلقہ جات کے لیے مراکز رائے دہی اسٹاف کی تعیناتی و انتخاب ، صیانتی بندوبست ، انتخابی میٹرئیل کی اشاعت ، تمام کو مراکز رائے دہی تک پہونچانے وغیرہ کی مکمل منصوبہ بندی کرلی گئی ہے ۔ اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ جاریہ ماہ کے اختتام سے قبل کسی بھی وقت امکانی انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے پیش نظر قبل از وقت ہی انتخابات کے انعقاد کی تیاری سے متعلق منصوبہ بندی ریاستی سطح پر تقریبا مکمل کرلی گئی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ

ریاستی سطح پر انتخابی فہرست رائے دہندگان کو بھی قطعیت دے دی گئی ہے ۔ اس قطعیت دی گئی فہرست انتخابی رائے دہندگان کے مطابق ریاست بھر میں جملہ 5.57 کروڑ رائے دہندے پائے جاتے ہیں جن میں 2.79 کروڑ خاتون اور 2.78 کروڑ مرد رائے دہندگان شامل ہیں ۔ جب کہ حالیہ دنوں میں انتخابی فہرست رائے دہندگان میں 76 لاکھ نئے رائے دہندوں کے نام شامل کئے گئے ہیں اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ سال 2009 میں منعقدہ انتخابات کے موقعہ پر جملہ 66.346 مراکز رائے دہی قائم کئے گئے تھے لیکن اب سال 2014 میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کے لیے اس تعداد کو بڑھا کر جملہ 70 ہزار مراکز رائے دہی قائم کئے جارہے ہیں ۔ اسی دوران انتخابات سے قبل عہدیداروں کے عمل میں لائے جانے والے تبادلوں سے متعلق 25 فروری تک عمل کو مکمل کرلینے کی ریاستی چیف الکٹورل آفیسر مسٹر بھنور لعل نے ریاستی حکومت کو ضروری ہدایات دے چکے ہیں ۔ اور ضلع سطح پر ایک ہی مقام پر تین سال مکمل کرلینے والے عہدیداروں کے تبادلے کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے ۔ جب کہ ضلع سطح پر اب تک ہی انتخابات تیاری کے لیے اسٹاف کی نامزدگی ٹریننگ کلاسیس و دیگر امور کی انجام دہی سے متعلق ضلع کلکٹر کی سطح پر جائزہ اجلاسوں میں تفصیلی غور و خوض بھی کیا گیا ہے ۔ اس جائزہ اجلاس کی روشنی میں ہر ایک مرکز رائے دہی کے لیے کم سے کم 8 تا 10 اسٹاف کی تعیناتی کے لیے عہدیداروں نے تجویز پیش کرنے پر کم سے کم سات تا آٹھ اسٹاف کو ہر ایک مرکز رائے دہی پر تعینات کرنے کی قوی توقع پائی جاتی ہے ۔ علاوہ ازیں اس اسٹاف کے ساتھ صیانتی انتظامات کے لیے دو لاکھ پولیس ملازمین و عہدیداروں کی خدمات حاصل کرنے تعینات کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست بھر میں ضلع کلکٹروں کی جانب سے موصولہ رپورٹس کی روشنی میں زائد از 20 ہزار انتہائی حساس ( مسئلہ کن ) رائے دہی کے مراکز پائے جاتے ہیں ۔

اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ انتخابی عمل کی مکمل ویڈیو گرافی کے لیے نچلی سطح سے انتظامات کرنے کے لیے ضلع سطح کے عہدیداروں کو احکامات جاری کئے گئے ہیں اور ریاست میں انتخابات منعقد کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے رقومات کی منظوری کے لیے اب تک ہی اقدامات کا آغاز کرچکی ہے ۔ ان تمام اقدامات و انتظامات کی روشنی میں ریاست کی تقسیم ( آندھرا پردیش کی تنظیم جدید ) کے مسئلہ پر کوئی توجہ دیئے بغیر متعلقہ انتخابات کی تیاریاں کرنے والے عہدیدار انہیں ضروری ہدایات وصول ہونے تک فی الوقت ریاست کے 42 پارلیمانی حلقہ جات اور 294 اسمبلی حلقہ جات کے لیے متحدہ ریاست میں ہی انتخابات منعقد کروانے کی تیاریوں میں نہ صرف مصروف ہیں بلکہ اقدامات کررہے ہیں ۔ اسی ذرائع کے مطابق ہی بتایا جاتا ہے کہ اگر انتخابی اعلامیہ کی اجرائی تک ہی ریاست کی تقسیم عمل میں لائی جاتی ہے تو اس صورت میں ہی علحدہ ریاستوں میں انتخابات کے لیے اقدامات کئے جاسکیں گے ۔ لیکن انتخابی اعلامیہ کے شیڈول جاری ہونے کے بعد اگر ریاست کی تقسیم کا اعلان ہونے کی صورت میں متحدہ ریاست کی اساس پر ہی انتخابات منعقد ہونے کا قوی امکان پایا جاتا ہے ۔۔