تشکیل تلنگانہ کے بعد کئی قائدین کیلئے انتخابات آزمائش

ڈی ناگیندر اور مکیش گوڑ کو سخت مقابلہ
دونوں وزراء پر عوام کے درمیان نہ رہنے کا الزام
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : شہر حیدرآباد میں دونوں سابق وزراء کو حریف امیدوار سخت مقابلہ پیش کررہے ہیں ۔ خیریت آباد اور گوشہ محل میں مسلم ووٹ فیصلہ کن موقف رکھتے ہیں ۔ شہر حیدرآباد کی نمائندگی کرنے والے سابق وزیر لیبر مسٹر ڈی ناگیندر ( خیریت آباد ) اور سابق وزیر مارکیٹنگ مسٹر ایم مکیش گوڑ ( گوشہ محل ) کو اس مرتبہ سخت مقابلہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد پہلی مرتبہ منعقد ہونے والے انتخابات کئی قائدین کے لیے آزمائش ثابت ہورہے ہیں ۔ تلگو دیشم ۔ بی جے پی اور کانگریس ۔ سی پی آئی کے مابین اتحاد ہوا ہے ۔ شہر میں سی پی آئی کا بعض مخصوص علاقوں تک اثر ہے ۔ تاہم بی جے پی کا اچھا موقف ہے ۔ دونوں وزراء پر عوام سے رابطے میں نہ رہنے کا الزام ہے ۔ حلقہ اسمبلی گوشہ محل سے بی جے پی نے سابق کارپوریٹر راجہ سنگھ کو امیدوار بنایا ہے ۔ اس کے علاوہ ایک طاقتور آزاد امیدوار بھی میدان میں ہے ۔ ساتھ ہی ٹی آر ایس اور وائی ایس آر کانگریس امیدوار بھی اپنی اپنی قسمت آزما رہے ہیں ۔ دوسری جانب اسمبلی حلقہ خیریت آباد بھی عوام کا مرکز توجہ بنا ہوا ہے ۔ یہ حلقہ بھی تلگو دیشم بی جے پی اتحاد کے باعث بی جے پی کو چھوڑ دیا گیا ہے ۔ بی جے پی نے سابق سٹی صدر مسٹر سی رامچندر ریڈی کو اپنا امیدوار بنایا ہے ۔ ٹی آر ایس وائی ایس آر کانگریس پارٹی بھی اس حلقہ سے مقابلہ کررہے ہیں ۔ واضح رہے کہ ان دونوں اسمبلی حلقوں سے مجلس نے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا ہے ۔ دونوں سابق وزراء کے لیے سخت مقابلہ ہے ان حلقوں میں مسلمانوں کے ووٹ فیصلہ کن موقف رکھتے ہیں جو بھی امیدوار مسلم ووٹ حاصل کرے گا ۔ اس کی کامیابی یقینی ہے ۔ ہر جماعت اور امیدوار مسلمانوں کو اپنا ہمنوا بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں حلقہ اسمبلی گوشہ محل حلقہ لوک سبھا حیدرآباد کا حصہ ہے تو اسمبلی حلقہ خیریت آباد حلقہ لوک سبھا سکندرآباد کا حصہ ہے ۔ 2014 کے عام انتخابات پر سیاسی جماعت کے لیے بہت بڑا امتحان ہے ۔ ہر جماعت کا امیدوار پدیاترا ، روڈ شو ، کارنر میٹنگ کرتے ہوئے رائے دہندوں کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔۔