تشکیل تلنگانہ کے باوجود مسلمانوں کی حالت زار

مسلم سماج پارٹی کا اجلاس ، صدر پارٹی عظیم جاوید کا خطاب
حیدرآباد ۔ 19 ۔ فروری : ( پریس نوٹ ) : مسلم سماج پارٹی حیدرآباد تلنگانہ کا اجلاس دفتر کاروان میں زیر صدارت جناب عظیم جاوید صدر پارٹی منعقد ہوا ۔ اجلاس کی کارروائی نائب صدر جناب انور علی نے چلائی ۔ صدر عظیم جاوید نے خطاب کرتے ہوئے سابق حکمران گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار نواب میر عثمان علی خاں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ریاست تلنگانہ تشکیل پاکر تقریبا سال کے قریب ہوگیا ہے لیکن آج بھی تلنگانہ ریاست کا مسلمان ، سیاسی ، تعلیمی اور معاشی ، پسماندگی کا شکار بنا ہوا ہے ۔ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تشکیل تلنگانہ سے پہلے ٹی آر ایس کے صدر جناب چندر شیکھر راؤ ریاست کے مسلمانوں سے بلند بانگ وعدے کیے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ریاست کے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم ہوں گے اور وقف جائیدادوں اور تاریخی عمارتوں کا تحفظ ہوگا جیسے حسین شاہ ولی کی درگاہ کی زمین کا تحفظ کیا جائے گا اور اردو کو مکمل طور پر دوسری سرکاری زبان کا درجہ ملے گا اور اقلیتی بہبود محکمہ کی ترقی ، طلباء کو کے جی تا پی جی مفت تعلیم دی جائے گی ، ضعیف العمر افراد بیواؤں اور معذورین کو وظیفہ ملے گا اور مسلم بیروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے گا ، غریب بے گھر خاندان کو گھر ملے گا ۔ لیکن آج تک ان وعدوں پر عمل نہیں کیا گیا ۔ اب ایسا لگتا ہے کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ مسلمانوں کے ان مسائل پر سنجیدہ نہیں ہیں یا ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کوئی دوسری سیاسی جماعت کے قائدین کے دباؤ میں آکر ریاست کے غریب اور مظلوم مسلمانوں کو نظر انداز کررہے ہیں ۔ اس لیے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔۔