قائد اپوزیشن جاناریڈی کے ریمارک پر ٹی آر ایس ارکان برہم
حیدرآباد۔/13مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں آج قائد اپوزیشن جانا ریڈی اور ٹی آر ایس ارکان کے درمیان اس وقت نوک جھونک ہوئی جب جانا ریڈی نے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کو کانگریس کا کارنامہ قرار دیا۔ بجٹ پر مباحث کا آغاز کرتے ہوئے جانا ریڈی نے کہا کہ اگر کانگریس نہ ہوتی تو نئی ریاست تلنگانہ وجود میں نہ آتی۔ کانگریس پارٹی کی کاوشوں کے سبب ہی نئی ریاست تلنگانہ تشکیل پائی ہے اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے بغیر تلنگانہ ریاست کا تصور بھی محال ہے۔ جانا ریڈی کے ان ریمارکس پر ٹی آر ایس ارکان نے سخت اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی آر ایس کی جدوجہد کے سبب تلنگانہ ریاست کو حاصل کیا جاسکا۔ اس کے جواب میں جانا ریڈی نے کہا کہ جس وقت تلنگانہ ریاست کا بل پارلیمنٹ میں منظور کیا جارہا تھا ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ کی تعداد صرف 2تھی جبکہ کانگریس اور دیگر جماعتوں کے ارکان کی تائید سے بل کو منظوری دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جدوجہد میں کانگریس 50فیصد حصہ داری ہے۔ ٹی آر ایس ارکان کی مسلسل مداخلت پر جانا ریڈی کسی قدر برہم ہوگئے اور کہا کہ دراصل ٹی آر ایس قائدین غرور اور تکبر میں مبتلا ہیں۔ انہیں ملک کی بعض ریاستوں اور دیگر ممالک میں ان جماعتوں کا حشر دیکھنا چاہیئے جنہوں نے تحریک چلائی تھی۔ سری لنکا میں زبردست عوامی تحریک چلانے والی پارٹی صدارتی انتخابات میں بری طرح ناکام ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹی آر ایس بھی عوامی توقعات پر پورا نہیں اُترے گی تو عوام خاموش نہیں رہیں گے۔انہوں نے ایک مرحلہ پر ریمارک کیا کہ کانگریس پارٹی کے قائدین ایوان سے نکل کر چار برس بعد دوبارہ منتخب ہونے کی طاقت رکھتے ہیں کیونکہ عوام ان کے ساتھ ہیں۔