اردو یونیورسٹی میں بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز
پروفیسر تارکیشور و پروفیسر وجئے کمار کے خطاب
حیدرآباد، 10؍ اکتوبر (پریس نوٹ) ترجمہ کی اہمیت و افادیت بڑھتی جارہی ہے۔ فلموں اور معلوماتی و تفریحی پروگراموں کو مقامی زبانوں میں ڈب کرتے ہوئے ٹیلی کاسٹ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے ترجمہ کی اندرون و بیرون ملک اہمیت و افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر تارکیشور وی بی، شعبۂ مطالعاتِ ترجمہ، ایفلو نے کل مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس ’’ٹرانسلیشن اکراس بارڈرس: ژنراس اینڈ جیاگرافیز(Translation Across Borders: Genres and Geographies)‘‘ کی افتتاحی تقریب میں کیا۔ سیسیورے کلیکٹیو سوسائٹی کی یہ کانفرنس میں شعبۂ انگریزی، اردو یونیورسٹی اور سنٹر فار اڈوانسڈ ریسرچ اینڈ ٹریننگ – ٹرانسلیشن اینڈ ملٹی لنگولزم، عثمانیہ یونیورسٹی تعاون کر رہے ہیں۔ پروفیسر شکیل احمد، پرو وائس چانسلر، مانو نے صدارت کی۔ ڈاکٹر تارکیشور نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے قیام کے ساتھ ہی دارالترجمہ کا قیام عمل میں آیا اور بڑے پیمانے پر اعلیٰ تعلیم کے کتب کا ترجمہ کیا گیا اور آج اردو یونیورسٹی بھی انہی راہوں پر رواں دواں ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد مختلف شعبوں کے مترجمین کو ایک پلیٹ پر جمع کرنا اور ان کے تجربات سے آگاہی حاصل کرنا ہے۔ اس کانفرنس میں مقامی، قومی اور بین الاقوامی مندوبین کی تعداد زائد از 100 ہے۔ پروفیسر ٹی وجئے کمار نے کہا کہ ہمہ لسانیت عثمانیہ یونیورسٹی کے خمیر کا حصہ ہے۔ اس کا اندازہ یونیورسٹی کے لوگو سے کیا جاسکتا ہے۔ اس میں اردو، ہندی، انگریزی اور تلگو زبانوں کے الفاظ موجود ہیں۔پروفیسر شکیل احمد، پرو وائس چانسلر نے بھی صدارتی خطاب کیا ۔