تحقیر عدالت کے الزام میں محمد مرسی کے خلاف مقدمہ کا آغاز

قاہرہ ۔ /23 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مصر کے سابق صدر محمد مرسی اور کئی دوسرے سیکولر قائدین کے خلاف عدلیہ کی ہتک کے الزام میں مقدمہ شروع ہوگیا ۔ واضح رہے کہ مرسی کو گزشتہ ہفتہ ہی 2011 ء میں جیل توڑ کر فرار ہونے کے مقدمہ میں سزائے موت سنائی گئی ہے ۔ عدلیہ کی ہتک کے مقدمہ میں عدالت نے تاہم 63 سالہ مرسی اور ان کے 24 ساتھیوں کے خلاف سماعت کو ملتوی کردیا ۔ اس مقدمہ کے ملزمین میں صدر عبدالفتح السیسی کے کچھ حامی بھی شامل ہیں ۔ آئندہ سماعت /27 جولائی کو مقرر کی گئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ مرسی اور ان کے ساتھیوں نے پارلیمنٹ میں عوامی جلسوں میں تقاریر اور سوشیل میڈیا یا انٹرویوز کے دوران عدلیہ کی ہتک عزت کی تھی ۔ مرسی کے خلاف یہ پانچواں مقدمہ ہے جنہیں گزشتہ ہفتہ اخوان المسلمون کے سربراہ محمد بدیع اور دیگر 100 افراد کے ساتھ جیل توڑ کر فرار ہونے کے مقدمہ میں سزائے موت سنائی گئی تھی ۔ یہ واقعہ 2011 ء کے انقلاب کے دوران پیش آیا تھا جب سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا ۔ اس مقدمہ میں مختلف گروپس سے تعلق رکھنے والے ملزمین کو یکجا کیا گیا ہے ۔

ملزمین میں جہاں محمد مرسی اور السیسی کے دوسرے مخالفین شامل ہیں وہیں کئی دوسرے آزادانہ اور سیکولر موقف رکھنے والے قائدین بھی شامل ہیں ۔ اس مقدمہ کے ذریعہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مصر میں کسی بھی نوعیت کی مخالفت کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ عدالت نے آج ان 6 ملزمین کے گرفتاری کے احکام جاری کئے جو سماعت کیلئے حاضر عدالت نہیں ہوئے تھے ۔ سماعت کے دوران محمد مرسی نے کہا کہ وہ عدالت کے ججس کا احترام کرتے ہیں لیکن ان کے خلاف مقدمہ درست نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سماعت کے مخالف ہیں کیونکہ موجودہ عدالت کو ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا کوئی اختیار نہیں ۔ محمد مرسی ایک آہنی کٹہرے میں قیدیوں کا نیلا لباس زیب تن کئے ہوئے حاضر عدالت ہوئے تھے تاہم انہیں دوسرے ملزمین سے علحدہ رکھا گیا تھا ۔ مرسی نے عدالت کو بتایا کہ نومبر 2013 ء سے انہیں اپنے افراد خاندان اور وکلاء سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔