چندرا بابو نائیڈو نے پھر مکتوب روانہ کیا ۔ پارٹی ایم پیز کو مباحث میں مدلل انداز اختیار کرنے کی بھی ہدایت
حیدرآباد 19 جولائی (سیاست نیوز) تلگودیشم کی جانب سے مرکزی بی جے پی حکومت کے خلاف پارلیمنٹ میں پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر کل 20 جولائی کو ہونے والے مباحث کو پیش نظر رکھتے ہوئے صدر تلگودیشم و چیف منسٹر آندھراپردیش چندرابابو نائیڈو نے ریاست کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کی تفصیلات پر مکتوب ایک بار پھر روانہ کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور ارکان پارلیمان سے تحریک کی تائید کی خواہش کی۔ انہوں نے آندھراپردیش کے مفادات کیلئے جدوجہد کرنے والی تلگودیشم کی تائید کرنے کی مختلف جماعتوں سے اپیل کی۔ چیف منسٹر نے اپنے مکتوب میں ریاست کیلئے خصوصی موقف فراہم کرنے، پولاورم پراجکٹ، خسارہ بجٹ (آمدنی کا خسارہ) ریلوے زون، اسپیشل فیکٹری، امراوتی، پسماندہ اضلاع کیلئے فنڈس کی فراہمی جیسے اُمور کی تفصیلات سے واقف کروایا اور راجیہ سبھا میں سابق وزیراعظم کے تیقنات سے متعلق نائیڈو نے اپنے مکتوب کے ذریعہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کو واقف کروایا۔ علاوہ ازیں این چندرابابو نائیڈو نے پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد پر مباحث میں حصہ لینے مکمل تیاری کرلینے کی تلگودیشم ارکان پارلیمان مسرس جی جئے دیو، رام موہن نائیڈو، کنینی نانی کو ہدایات دیں۔ چندرابابو نائیڈو نے آج امراوتی سے ارکان پارلیمان تلگودیشم کے ساتھ ٹیلی کانفرنس کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تحریک عدم اعتماد پر مباحث کا آغاز تلگودیشم کی جانب سے کیا جانا چاہئے اور مباحث کا اختتام تلگودیشم کے ذریعہ ہی ہونا چاہئے۔ اس تعلق سے تلگودیشم ارکان پارلیمان کو مناسب مشورے دیئے اور کہاکہ قانون تقسیم ریاست آندھراپردیش میں پائے جانے والے 19موضوعات پر وسیع پیمانے پر مباحث کو یقینی بنانے اور تحریک عدم اعتماد کی تائید و حمایت کرنے والی پارٹیوں کے تمام قائدین و ارکان پارلیمان سے بات کرنے کی بھی نائیڈو نے ہدایات دیں اور کہاکہ اگر کوئی ارکان پارلیمان مباحث کے دوران مداخلت کرکے اصل موضوع سے توجہ ہٹانے کی کوشش کریں تو اس پر توجہ نہ دے کر اصل موضوع سے نہ ہٹ کر مقابلہ کرنے کی پارٹی ارکان پارلیمان کو ہدایات دیں اور کہاکہ تحریک عدم اعتماد پر پارلیمنٹ میں مباحث ہونا تلگودیشم پارٹی کیلئے کامیابی تصور کرکے وقار کا مسئلہ بناتے ہوئے سخت موقف اختیار کرکے مباحث میں حصہ لیں۔