تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت سنجیدہ ، اسمبلی میں وزیر فینانس ایٹالہ راجندر کا بیان
حیدرآباد۔24۔نومبر (سیاست نیوز) وزیر فینانس ای راجندر نے اسمبلی کو یقین دلایا کہ تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والے نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی کے وعدے پر عمل آوری کے سلسلہ میں حکومت سنجیدہ ہے۔ اسمبلی میں بی جے پی کی جانب سے بیروزگاری اور مخلوعہ سرکاری جائیدادوں پر تقررات کے مسئلہ پر پیش کردہ مباحث کی تحریک کا جواب دیتے ہوئے وزیر فینانس نے تلنگانہ میں بیروزگار نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ کیلئے سابق تلگو دیشم اور کانگریس حکومتوں کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تلگو دیشم اور کانگریس نے کئی اہم سرکاری اداروں کو خانگی شعبہ کے حوالے کردیا جس کے باعث بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور تعلیم یافتہ نوجوان روزگار سے محروم ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نظام شوگر فیکٹری اور دیگر اہم اداروں کو کوڑیوں کے مول خانگی شعبہ کے حوالے کردیا گیا۔ اگر سابقہ حکومتیں ان اداروں کا تحفظ کرتے ہوئے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرتی تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی ۔ انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت کے وعدے پر عمل آوری کا انتظار کرے اور تعمیری تجاویز پیش کرے۔ راجندر نے کہاکہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف بیروزگار نوجوانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں طلباء کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے راجندر نے اس کیلئے اپوزیشن کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے اعلان سے نئے تقررات کے عمل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اس سلسلہ میں اندیشوں کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وزیر فینانس نے کہا کہ این ڈی اے دور حکومت میں چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ کے اہم اداروں کو خانگی شعبہ کے حوالے کیا جس کا سلسلہ کانگریس دور حکومت میں جاری رہا۔ اس طرح سینکڑوں اداروں کو یا تو بند کردیا گیا یا انہیں خانگی شعبہ کے حوالے کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض طاقتیں حکومت کی کارکردگی میں رکاوٹ پیدا کرنے کیلئے سازشیں کر رہی ہیں۔ وزیر فینانس نے کہا کہ پولیس، سیول سپلائیز اور دیگر محکمہ جات کے تقررات کے عمل کا آغاز ہوچکا ہے اور ٹی آر ایس حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد ابھی تک 295 تقررات کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تقررات کے سلسلہ میں تحفظات اور روسٹر سسٹم پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آندھراپردیش کی تقسیم کے بعد مرکزی حکومت نے تلنگانہ کیلئے 4 لاکھ 15 ہزار 931 ملازین کی منظوری دی ہے۔ تاہم کمل ناتھن کمیٹی کی قطعی رپورٹ ابھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 ویں شیڈول میں موجود 89 سرکاری اداروں اور کارپوریشنوں کی تقسیم کا عمل ابھی باقی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے قیام کیلئے احکامات جاری کردیئے گئے اور بہت جلد صدرنشین اور ارکان کے تقررات کو منظوری دی جائے گی۔ ڈاکٹر کے لکشمن (بی جے پی) نے مباحث کا آغاز کرتے ہوئے سرکاری ملازمتوں پر عدم تقررات کے سبب نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی کا حوالہ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے ذریعہ اپنے وعدے کی تکمیل کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد لاکھوں بیروزگار نوجوان ملازمت کے سلسلہ میں امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر جی چنا ریڈی (کانگریس) نے کہا کہ جب کبھی علحدہ تلنگانہ کی تحریک بپا ہوئی، ملازمتیں اہم مسئلہ رہیں۔ 1952 ء میں ملازمتوں میں انصاف کیلئے پہلی مرتبہ علحدہ تلنگانہ کا نعرہ لگایا گیا۔ 1969 اور پھر سن 2000 ء میں طلباء نے تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کیا۔ طلبہ کا یہ مطالبہ ہے کہ روزگار ان کا بنیادی حق ہے اور علحدہ ریاست میں ان کے ساتھ انصاف کیا جانا چاہئے ۔ این وی ایس ایس پربھاکر (بی جے پی) نے بھی مباحث میں حصہ لیا۔