تحریک تلنگانہ میں انقلابی گلوکاروں کا اہم رول

ٹی آر سی کی کتاب تلنگانہ تحریک کی رسم اجراء ، تلنگانہ حامی گروپس و سیاسی قائدین کی شرکت
حیدرآباد۔18 اگست ( سیاست نیوز ) علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل اور نئی ریاست میں پیش آئے انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ تلنگانہ حامی تمام گروپس اورتلنگانہ حامی سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران کی بڑی تعداد ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئی ہے جس کا سہارا تلنگانہ ریسو ر س سنٹر کے سر جاتا ہے۔ یہ بات انقلابی گلوکار غدر نے سارسواتہ پریش حال ‘ بگل کنٹہ میںتلنگانہ ریسور س سنٹر کی جانب سے تلنگانہ تحریک پر لکھے گئے گیت پر مبنی کتاب کی رسم اجرائی تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔ تقریب کی صدرات چیرمن ٹی آر سی مسٹر ایم ویدا کمار نے کی جبکہ رکن پارلیمنٹ سکندرآباد بنڈارو دتاتریہ‘ رکن اسمبلی راسامیا بال کشن‘ چیرمن تلنگانہ پریس اکیڈیمی الم نارائنہ‘ چیرمن ایچ ایم ٹی وی رام چندر مورتی‘ انقلابی شاعر جی انجنا‘ اندیسیری ‘ سوڈالا‘ جی گوری شنکر‘ جئے دھیر ترومل رائو کے علاوہ دیگر نے بھی اس تقریب سے خطاب کیا۔ اپنے سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے انقلابی گیتوں کو تلنگانہ تحریک کی جان قراردیا اور کہاکہ پچھلے بیس سالوں میںانقلابی نغموں نے تلنگانہ تحریک میںایک نئی جان ڈال دی ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ تلنگانہ ریسور س سنٹر نے تلنگانہ تحریک پر لکھے گئے نغموں کو کتاب کی شکل دیکر اسے تاریخی اہمیت کا حامل بنادیا ہے جو قابلِ ستائش اقدام ہے۔ انقلابی گلوکار غدر نے کہاکہ سماجی زندگی گذار رہے تلنگانہ کے انقلابی شخصیتوں نے اپنے نغموں کے ذریعہ تلنگانہ کی عوام کے اندر برپا کردہ انقلاب تلنگانہ تحریک کی اصل کامیابی کی وجہہ بنا۔اپنے صدارتی خطاب میںچیرمن تلنگانہ ریسور س سنٹر ایم ویداکمار نے کہاکہ تلنگانہ تحریک پانچ زمروں میںتقسیم کردی گئی تھی جس کا پہلا زمرہ سماجی تھا جس کے بعد تہذیبی‘ معاشی ‘ سیاسی اور ماحولیاتی پسماندگیوں کو اجاگر کرنے میںانقلابی گلوکار وں نے اہم رول ادا کیا ۔ انہوں نے کہاکہ ساٹھ سالہ تحریک کے ابتدائی مراحل میںجہاں تلنگانہ کے وسائل کا استحصال کیا جارہا تھا اُس وقت تلنگانہ کے سماجی جہدکاروں نے اپنے قلم اور نغموں کے ذریعہ عوام میںتلنگانہ کیساتھ ہونیوالی ناانصافیوں کو اجاگر کیا۔انہوں نے مزیدکہاکہ ایک ہزار سے زائد ایسے نغمے ہیںجس کو تلنگانہ کی انقلابی شخصیتوں نے پیش کیا جس میںسے ایک سو ایک منتخب گیتوں کو کتاب کی شکل دیکر شائع کرنے کاکام تلنگانہ ریسور س سنٹر کی جانب سے کیاگیا ہے اور اگے بھی اس سلسلے کو جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ تلنگانہ ریسور س سنٹر تلنگانہ کاکتیہ ‘ قطب شاہی اور آصف جاہی دور حکومت کی ہزاروں سالہ قدیم تہذیب وتمدن کا مرکز ہے جہاں پر دنیا بھر کے لوگوں نے آکر اپنے فن کوپیش کیا اور سرزمین دکن پر اپنائیت محسوس کی ہے۔