ہندوستان کی ترقی میں تیزی سے اضافہ ، انتخابات کے باوجود اصلاحات کا عمل تیز ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ
واشنگٹن ۔ 21 اپریل ۔(سیاست ڈاٹ کام) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) نے کہاکہ ساری دنیا میں تجارت اور سرمایہ کاری ہی کامیابی کی کلید ہے ۔ آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لاکارڈ نے کہاکہ عالمی سطح پر تمام ممالک کو تجارت اور سرمایہ کاری کے عمل میں رکاوٹ پیدا نہیں کرنی چاہئے ۔ اگر یہ سلسلہ بند ہوگیا تو اس کے نقصانات بھی ہوں گے ۔ انھوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کو کسی بھی ملک کی ترقی کی ضامن قرار دیا۔ کرسٹین لاکارڈ نے عالمی اقتصادات کی بحالی کیلئے ان کے بڑھنے اور فروغ کو نہایت اہم خیال کیا ۔ بین الاقوامی مالیاتی داراہ کی سربراہ نے چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی کشیدگی پر بھی گہری تشویش ظاہر کی اور کہا کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو دور کریں ۔ باہمی تجارتی مذاکرات سے ہی مسائل حل کئے جاسکتے ہیں۔ ہندوستان کی ترقی کے بارے میں آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ ہندوستان میں ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوجائے ۔ اس ملک میں انتخابات کا دور ہونے کے باوجود اصلاحات کا عمل جاری ہے ۔ یہی خوبی ہندوستان کی ترقی کی راہ کو کشادہ کرتی ہے ۔ ہندوستان میں آئندہ ایک سال کے اندر متعدد انتخابات ہونے والے ہیں ۔ کرناٹک ، میزورم ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں اسمبلی انتخابات کے علاوہ 2019 ء لوک سبھا انتخابات بھی ہورہے ہیں ۔ ڈائرکٹر آف ایشیا اینڈ پیسفک ڈپارٹمنٹ چھینگانگ رمی نے کہاکہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ہندوستان کے اصلاحاتی ڈھانچہ کی رفتار سست ہوجائے گی کیوں کہ ہندوستان میں انتخابات کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے ۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ترقی کی رفتار اور اصلاحاتی ڈھانچہ پر عمل آوری جاری رہنی چاہئے ۔ ہندوستان نے مالیاتی سال 2018-19ء میں شرح ترقی کا نشانہ 7.4 فیصد مقرر کیا ہے ۔ کرنسی میں تبدیلی کے باعث عارضی طورپر معاشی ترقی کی رفتار کم ہوتی ہے لیکن اب ہندوستان اپنی اس خامی سے باہر نکل رہا ہے ۔ اس کے علاوہ حکومت نے گڈس اینڈ سرویس ٹیکس بھی نافذ کیا ہے ۔ آئی ایم ایف میں ڈپٹی ڈائرکٹر کین کانگ نے کہا کہ جی ایس ٹی کا نفذ ہندوستان کے ٹیکس سسٹم میں بہت بڑا قدم ہے ۔ اس سے معاشی اصلاحات میں بڑی چھلانگ ہوگی ۔ حالیہ برسوں میں ہندوستان کے اندر ٹیکس سسٹم کے ذریعہ سب سے بڑے اصلاحات کا عمل شروع کیا گیا ہے جس سے اشیاء کی منتقلی کے عوض سرویس کو ہندوستان کے اندر ہی تحریک میں اضافہ ہوا ہے ۔ جس سے روزگار اور پیداوار دونوں میں اضافہ ہوگا ۔ حکوت نے حال ہی میں لچکدار افریاط زر کی شرح متعارف کروائی ہے اور قانونی مالیاتی پالیسی سے ملک میں مالیاتی شعبہ کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی ۔