تبلیغ ، محنت ، تجارت محمد گلاب کی پہچان

عام آدمی کی خاص بات
تبلیغ ، محنت ، تجارت محمد گلاب کی پہچان
حیدرآباد ۔ 22 ۔ اگست : بہت پرانی کہاوت ہے ’ کر محنت کھا نعمت ‘ یوں تو دیکھنے میں یہ ایک مختصر سی کہاوت ہے لیکن اس میں زندگی کی بہت بڑی حقیقت پوشیدہ ہے ۔ جو اس کہاوت کی حقیقت کو سمجھ گیا کامیابی اس کے قدم یقینا چوم لیتی ہے ۔ ہمیں یہ دیکھ کر بڑا افسوس ہوتا ہے کہ ہماری نئی نسل خاص آرام طلب ہوگئی ہے ۔ غالبا نوجوان یہی سوچتے ہیں کہ غیب سے ایسا کوئی کرشمہ ہوجائے کہ وہ بیٹھے بٹھائے کروڑوں میں کھیلنے لگے ۔ اسی بیمار ذہنیت کی وجہ سے ہمارے نوجوان کوئی ترقی نہیں کرپا رہے ہیں ۔ جب کہ حیدرآباد ایک ایسا شہر ہے جہاں روزگار اور کمائی کے بے شمار مواقع ہے یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی دیگر ریاستوں سے آنے والے افراد مختلف نئے نئے کاروبار کے ذریعہ اپنے پیروں پر کھڑے ہورہے ہیں ۔ آج ہم ایک ایسے نوجوان چہرے کو پیش کررہے ہیں جن کا نام محمد گلاب ہے جو اپنی عمر کی 32 بہاریں دیکھ چکا ہے ۔ ان کا تعلق ریاست بہار کے ضلع سمستی پور سے ہے ۔ یہ پانچ سال پہلے حیدرآباد آئے ۔ محمد گلاب اپنی مصروفیات کے ساتھ ساتھ دعوت کے کام سے جڑے ہوئے ہیں ۔ گاندھی بھون نامپلی روڈ پر ایک درخت کے نیچے جب وہ اپنی بنڈی لگاتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ بنڈی نہیں کوئی جنرل اسٹور ہے کیوں کہ سامان سجانے کا طریقہ اور وقفہ وقفہ سے سامانوں کو صاف کرتے رہنے سے پوری بنڈی ایک خوبصورت دکان لگتی ہے ۔ اس بنڈی پر انہوں نے موبائیل اساسریز ، ہمہ اقسام کے کنگھے ، قفل ، گھریلو اشیاء ، کچن کے سامان ، عورتوں کے بناو سنگھار کے سامان وغیرہ فروخت کرتے ہیں ۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ پہلے وہ علی گڑھ میں میوہ فروخت کرتے تھے تاہم ایک دوست کے مشورے پر وہ حیدرآباد آئے اور ان سے ہی 25 ہزار روپئے قرض لے کر یہ کاروبار شروع کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر موسم میں خواہ دھوپ ہو یا بارش گرمی ہو یا سردی ہمیشہ صبح 11 تا شام کے 7 بجے تک کاروبار کرتے ہیں جس سے انہیں یومیہ 200 تا400 روپئے کی آمدنی ہوجاتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ نماز کا وقت ہوتے ہی وہ اپنی بنڈی پر ٹاٹ پٹری ڈال کر نماز کے لیے چلے جاتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ رزق کا دینے والا اللہ ہے ۔ اور اس کی حفاظت بھی وہی کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 5 سال میں ان کی بنڈی سے کبھی کوئی چیز چوری نہیں ہوئی ۔ وہ پابندی سے نماز کے لیے چلے جاتے ہیں اور وہ اپنے مسلم گاہکوں کو بھی نماز کی پابندی کے لیے تلقین کرتے رہتے ہیں ۔ منگل ہاٹ میں کرایہ کے مکان میں مقیم محمد گلاب نے بتایا کہ وہ 7 بھائی ہیں اور شادی شدہ ہیں ۔ ان کی اہلیہ اور بیٹی سمستی پور میں ہی رہتی ہیں ۔ جن سے ملنے کے لیے ہر چار ماہ بعد 15 دن کے لیے وہاں جاتے رہتے ہیں ۔ ہر چار ماہ کی پابندی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ شریعت میں ایسا ہی کرنے کا حکم ہے کیوں کہ یہ بیوی کا حق ہے ۔ بہرحال محمد گلاب کو آپ کے سامنے پیش کرنے کا مقصدیہ ہے کہ ہمارے نوجوان ان سے سبق حاصل کریں اور کاہلی سستی کو چھوڑ کر اپنی مدد آپ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اپنی آمدنی کا ذریعہ بنائیں ۔۔