تبدیلی مذہب پر یکطرفہ قانون سازی نہیں کی جائیگی : وینکیا نائیڈو

حکومت کا جواب سنے بغیر پارلیمنٹ سے اپوزیشن کا واک آوٹ نامناسب: وزیر پارلیمانی امور کا بیان
حیدرآباد 14 ڈسمبر ( پی ٹی آئی ) مختلف موضوعات پر گذشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں ہوئی رکاوٹوں کے پیش نظر مرکزی وزیر پارلیمانی امور مسٹر ایم وینکیا نائیڈو نے آج سوال کیا کہ اپوزیشن جماعتیں کس طرح حکومت کے جواب کو سنے بغیر ایوان سے واک آوٹ کرسکتی ہیں ؟ ۔ وینکیا نائیڈو نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نے ایک مسئلہ اٹھایا ہے اور اگر آپ نے اپنی تقریر بھی کردی ہے تو پھر آپ کو جواب سننے کیلئے بھی تیار رہنا چاہئے ۔ اگر آپ جواب سننا نہیں چاہتے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ صرف تشہیر چاہتے ہیں اور آپ کا یہ احساس ہے کہ آپ حکومت کو الجھن کا شکار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی مذہب کے مسئلہ پر جب وہ جواب دے رہے تھے اس وقت اپوزیشن ارکان نے ایوان سے واک آوٹ کردیا ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ حکومت نے کوئی غلطی نہیں کی ہے وینکیا نائیڈو نے کہا کہ حکومت کو کرپشن ‘ فیصلہ سازی کے فقدان ‘ پالیسی کے مفلوج ہوجانے اور قیتموں میں اضافہ جیسے مسائل کا سامنا نہیں ہے ۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ‘ خود بی جے پی نے اور انہوں ( نائیڈو ) نے برسر اقتدار جماعت کے کچھ ارکان کی جانب سے بلا سوچے سمجھے کئے گئے ریمارکس کی مذمت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہتر حکمرانی اور ترقی کے ایجنڈہ کو کمزور کرنے یا اس سے انحراف کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ لوگ بی جے پی اور نریندر مودی کو بدنام کرنے غلط اطلاعات پھیلا رہے ہیں۔ تبدیلی مذہب کے مسئلہ پر اپوزیشن کی تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے وینکیا نائیڈو نے الزام عائد کیا کہ کانگریس پارٹی اس مسئلہ پر تفصیلی مباحث نہیں چاہتی ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے کانگریس اقتدار میں مدھیہ پردیش اور راجستھان جیسی ریاستوں میں تبدیلی مذہب پر امتناع کیلئے قانون سازی کی بات کہی تو کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ یہ لوگ واک آوٹ کرگئے ۔ ہزاروں اور لاکھوں افراد مذہب تبدیل کر رہے ہیں۔ اگر اس پر تفصیلی مباحث ہوں تو کانگریس کو پریشانی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ’’ گھر ۔ واپسی ‘‘ غلط ہے تو پھر مذہب کی تبدیلی بھی غلط ہے ۔ ہم اس پیسے کو استعمال کرتے ہوئے مذہب تبدیل کروانے کے مخالف ہیں جو بیرونی ممالک سے آتا ہے ۔ تاہم ہم یکطرفہ طور پر تبدیلی مذہب پر امتناع کا قانون نہیں لائیں گے ۔ اس پر ملک گیر مباحث ہونے چاہئیں۔ اس پر عوام اور سیاسی جماعتوں کو شامل کئے بغیر حکومت کی جانب سے یکطرفہ قانون سازی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ انہوں نے اپوزیشن کے اس الزام کو بھی مسترد کردیا کہ مرکز میں مودی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کی بات کہی جاتی ہے ۔ وہ اعداد و شمار پیش کرینگے جو ریاستوں نے دئے ہیں اور میڈیا میں سامنے آئی ہیں۔ اس کے مطابق موجودہ حکومت کے اقتدار پر آنے کے بعد سے کشیدگی میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ شردھا اسکام میں این ڈی اے حکومت پر ترنمول کانگریس سربراہ ممتابنرجی کی این ڈی اے حکومت پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سی بی آئی کے کام کاج میں مداخلت نہیں کرتی ۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی بھی گرفتار ہوتا ہے اس کا کہنا ہے کہ اسے ہراساں کیا جا رہا ہے ۔ جس کسی پر سی بی آئی دھاوے کرتی ہے وہ کہتا ہے کہ یہ سیاسی ہراسانی ہے ۔ ترنمول کانگریس نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے ۔ ہم سی بی آئی کے کام کاج میں مداخلت نہیں کرتے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ سی بی آئی موثر انداز میں آزادی کے ساتھ اور انصاف کے ساتھ کام کرے ۔ انہوں نے کہاکہ شردھا اسکام کا مقدمہ یو پی اے حکومت میں درج کیا گیا تھا اور اس کی رہنمائی سپریم کورٹ نے بھی کی ہے ایسے میں ہماری جانب سے مداخلت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ ممتابنرجی نے کرپشن کے خلاف ہمیشہ جدوجہد کی ہے لیکن اس کیس میں وہ جس طرح سے رد عمل ظاہر کر رہی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے وہ مایوسی کا شکار ہوتی جا رہی ہیںکیونکہ ان کی عوامی تائید و حمایت گھٹ رہی ہے ۔