پولیس کے اقدام سے 150 سالہ قدیم آصف جاہی حوض کی بقاء کو خطرہ
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اپریل : ( نمائندہ خصوصی ) : گلزار حوض کا تاریخی فوارہ جو کبھی شہر کے لیے خوبصورتی کا باعث ہوا کرتا تھا ۔ اب ہمارے حکام کی نا اہلی لاپرواہی اور مسلسل غفلت کی وجہ سے شہر کی بدصورتی کا سبب بنا ہوا ہے ۔ دراصل چارمینار اور اطراف و اکناف میں کشیدہ صورت حال کے دوران یا رکاوٹ ڈالنے کے لیے جب خار دار تاروں کا پولیس استعمال کرتی ہے اور جب حالات پرامن ہوجاتے ہیں یا بالفاظ دیگر مقصد پورا ہوجاتا ہے تو متعلقہ پولیس عملہ ان خار دار تاروں کو کسی محفوظ مقام پر رکھنے کے بجائے ان تاروں کو گلزار حوض کی ٹوٹی ہوئی جالیوں میں کچرے کی طرح رکھ رہے ہیں جس سے یہ خوبصورت فوارہ کسی کچرے دان کی طرح نظر آتا ہے ۔ اور یہاں آنے والے ہزاروں سیاحوں پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ قریبی دکانداروں نے اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آخر پولیس والے ان خار دار تاروں کو اس خوبصورت اور تاریخی فوارے میں ہی کیوں رکھ رہے ہیں ؟ واضح رہے کہ شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کے لیے 1591 میں چارمینار اور 1592 میں اس کے آس پاس چار کمانیں تعمیر کی گئیں ۔ ان چاروں کمانوں کے نام الگ الگ ہیں ۔ جن میں مچھلی کمان ، کالی کمان ، سحر باطل کمان اور چار کمان کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ ان چاروں کمان کے بیچ میں چوکور جگہ ہے جسے کبھی خلوخانہ کہا جاتا تھا ۔ اس چوکور علاقہ کے بیچ ایک خوبصورت حوض تھا ( اب اس کی جگہ فوارہ ہے ) جسے کبھی ’ چہار سو کا حوض ‘ پھر ’ سو ‘ کا حوض اور اب ’ گلزار حوض ‘ کے نام سے مشہور ہے ۔ پہلے اسے ’ آٹھ کونی پانی کا خزانہ ‘ بھی کہا جاتاتھا جو نظام فوج کے پانی پینے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا ۔ اب یہ ایک خوبصورت فوارہ کی شکل میں ہے اور یہ 1880 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی تاریخی اور تعمیری حیثیت و اہمیت کی وجہ سے محکمہ آثار قدیمہ نے اسے اپنے تحت لے لیا ہے ۔ لیکن اب اس کی حالت انتہائی خستہ ہورہی ہے ۔ اس محکمہ نے اسے اپنے تحت تو لے لیا ہے مگر اس کی حفاظت کی طرف توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ عوام کا کہنا ہے کم از کم پولیس عملہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے اور اس کا تحفظ کرے ۔ اور پولیس کے اعلیٰ عہدیدار اپنے ماتحت عہدیداروں کو تنبیہ کرے وہ ایسی حرکت نہ کریں جس سے شہر کی بدنامی ہو اور جتنا جلد ہوسکے وہ اس خار دار تار کو یہاں سے نکلوائیں ۔ عوام اس مسئلے پر محکمہ بلدیہ پر بھی اپنی برہمی کا اظہار کررہے ہیں جس پر اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ہے ۔۔