حیدرآباد ۔ 6 ۔ جنوری : تاریخی مکہ مسجد کا شمار ہندوستان کی وسیع و عریض اور خوبصورت ترین فن تعمیر کی شاہکار مساجد میں ہوتا ہے ۔ 12 تا 15 ہزار مصلیوں کی گنجائش والی اس مسجد کے امور کی نگرانی ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کرتا ہے ۔ مکہ مسجد میں 30 بیت الخلاء اور 64 طہارے خانے ہیں اور شاہی حکمرانوں نے چاہے وہ قطب شاہی حکمراں ہوں کہ مغل شاہی یا پھر آصف جاہی حکمراں مکہ مسجد میں ہر قسم کی سہولتیں فراہم کرنے کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی لیکن جمہوریت کے منظر عام پر آنے کے بعد سے حکومتوں اور سرکاری محکموں نے جیسے اس تاریخی مسجد پر توجہ دینا ہی چھوڑ دیا ۔ نتیجہ میں آج مسجد کے ایک حصہ میں واقع بیت الخلاء اور طہارت خانے کی دیواریں بوسیدہ ہوگئیں ہیں اور ان بیت الخلاؤں میں ضرورت کے لیے جانے والے مرد و خواتین کو ہاسپٹل منتقل کرنے کی ضرورت پیش آرہی ہے ۔ 4 دسمبر کو مکہ مسجد کے ایک بیت الخلاء کی دیوار منہدم ہونے کے باعث ایک خاتون زخمی ہوگئی جسے مقامی ہاسپٹل میں شریک کروایا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق 55 سالہ خاتون ساکن ورنگل نے چارمینار اور مکہ مسجد کا مشاہدہ بھی کیا وہ ضرورت سے فارغ ہو کر مسجد کے ٹائیلٹ سے باہر نکل رہی تھیں کہ بیت الخلاء کی درمیانی دیوار اچانک گر گئی جس کی زد میں آکر وہ زخمی ہوگئیں ۔ مسجد کے انتظامات سے حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود کی بے حسی کا حال یہ ہے کہ 30 بیت الخلاؤں اور 64 طہارت خانوں کے لیے صرف ایک 60 سالہ شخص کو رکھا گیا ہے جب کہ ماضی میں یہ کام 5 ملازمین کیا کرتے تھے 5 سال قبل تک دو ملازمین اس کام کو انجام دیتے تھے لیکن ایک ملازم کے انتقال کرجانے کے بعد تنہا صفائی کے یہ کام انجام دے رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ شہر حیدرآباد آنے والے اکثر سیاح مکہ مسجد کا مشاہدہ ضرور کرتے ہیں ۔ چونکہ چارمینار اور مکہ مسجد کے اطراف و اکناف کوئی سرکاری بیت الخلاء ( سلبھ کامپلکس ) نہیں ہے اس لیے اکثر سیاح مکہ مسجد کے بیت الخلاؤں اور طہارت خانوں کا استعمال کرتے ہیں ۔ مکہ مسجد کے اسٹاف اور ہوم گارڈس کا بھی یہ ماننا ہے کہ اطراف میں سلبھ کامپلکس نہ ہونے کے باعث سیاح مسجد کے بیت الخلاء کو استعمال کرنے پر مجبور ہیں ۔ دوسری طور پر ان بیت الخلاؤں کے دروازے ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں ۔ بوسیدہ دیواروں کے کبھی بھی گرنے کا خطرہ پایا جاتا ہے ۔ ہاں پانی کا بہتر انتظام ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کو ان کی درستگی اور نئے دروازوں کی تنصیب کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئے ۔ ساتھ ہی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ چارمینار اور مکہ مسجد کے علاوہ اطراف و اکناف کی تاریخی عمارتوں کے مشاہدہ کے لیے آنے والے سیاحوں و عوام کے لیے سلبھ کامپلکس تعمیر کروائے ۔ریاستی وزیر اقلیتی بہبود محمد احمد اللہ کو چاہئے کہ وہ متعلقہ محکمہ کو اس کام کے لیے مزید 4 ملازمین کا تقرر کرے ۔ مسجد کے قریب رہنے والے افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسجد کے بیت الخلاء ، الصبح کھولدئیے جاتے ہیں اور رات 8 بجے تک کھلے رہتے ہیں ۔ مقامی افراد اور مصلیوں نے بتایا کہ جمعہ ، عیدین اور مقدس راتوں کے دوران مسجد مصلیوں سے بھر جاتی ہے ایسے میں انہیں بیت الخلاء و طہارت خانوں کی اس حالت زار سے کافی تکلیف ہوتی ہے ۔ اس لیے محکمہ اقلیتی بہبود اس مسئلہ پر فوری توجہ مرکوز کرے ۔۔