حیدرآباد ۔ 11 ۔ فروری : آصف سابع حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں بہادر کو کئی لحاظ سے ہندوستان کی سابق دیسی ریاستوں کے حکمرانوں پر فوقیت حاصل ہے ۔ دنیا کے سب سے دولت مند ترین شخص ہونے کے باوجود دیگر حکمرانوں کی بہ نسبت ان کی زندگی میں بہت سادگی کا عنصر پایا جاتا تھا لیکن ان کی خوبیوں میں سب سے اہم یہ تھی کہ وہ پتھروں میں پائے جانے والے ہیروں کو بآسانی تلاش کرلیتے تھے ان کی مردم شناسی کا حال یہ تھا کہ مملکت حیدرآباد دکن میں ہندوستان کے تمام با صلاحیت شخصیتیں جمع ہوگئی تھیں ان میں جید علماء ، ماہرین تعلیم ، اپنے فن میں ماہر اطباء ، مترجمین ، سائنسداں ، ماہرین ، علوم فلکیات ، اراضیات ، ادیبوں ، شعراء و مصنفین کی ایک کثیر تعداد شامل ہیں ۔ حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں بہادر نے دیگر ہندوستانی دیسی ریاستوں کے حکمرانوں کی بہ نسبت دکن میں شعبہ تعلیم و تحقیق اور زندگی کے تمام شعبوں کو عصری ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کا بیڑا اٹھایا ۔ اور ان کے علمی ذوق کی سب سے بڑی مثال جامعہ عثمانیہ ہے اس یونیورسٹی کو دنیا کی سب سے پہلی اردو یونیورسٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ جہاں سقوط حیدرآباد سے قبل اور بعد میں کچھ برسوں تک آرٹس و سائنس ، قانون ، انجینئرنگ و ٹکنالوجی ، اقتصادیات و سماجیات ، فلکیات اور دیگر مضامین صرف اور صرف اردو میں پڑھائے جاتے تھے حد تو یہ ہے کہ 1968 تک اس یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم اردو میں ہی ہوا کرتی تھی ویسے تو عثمانیہ یونیورسٹی 1918 میں لاکھوں روپئے کے مصارف سے تعمیر کی گئی ۔ لیکن 1938 میں آرٹس کالج کے افتتاح کے ساتھ ہی سارے برصغیر میں ایک نئے تعلیمی باب کا آغاز ہوا ۔ آرٹس کالج کی عمارت کو عثمانیہ یونیورسٹی کی شان اس کا وقار کہا جاتا ہے ۔
سراکبر حیدری کے مشورہ پر آرٹس کالج کی عمارت کو حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں بہادر نے 22 لاکھ روپئے کے مصارف سے تعمیر کروایا تھا تقریبا 80 سال قدیم آرٹس کالج عثمانیہ یونیورسٹی کی عمارت بلا شبہ فن تعمیر کا شاہکار ہے ۔ اس کالج کے بعد جمہوری حکومتوں نے سارے ملک اور ریاست آندھرا پردیش میں کئی کالجس اور یونیورسٹیاں قائم کی تھیں لیکن اس جیسی عظیم الشان عمارت کوئی تعمیر نہ کرسکا مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ فرقہ پرستوں اور اردو کے دشمنوں نے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت نہ صرف اس یونیورسٹی کے اردو ذریعہ تعلیم کو ختم کردیا بلکہ یونیورسٹی کے اس ایمبلیم میں بھی تبدیلی کردی جس میں علم کی اہمیت سے متعلق حضور اکرم ﷺ کا پاک ارشاد اور نور علیٰ نور درج تھا ۔ لیکن متعصب حکمرانوں اور فرقہ پرست عناصر نے اس ایمبیلم کو بھی بدل کر رکھدیا ۔ ان فرقہ پرستوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آرٹس کالج عثمانیہ یونیورسٹی کا جو سنگ بنیاد تھا اسے بھی بری طرح نظر انداز کردیا گیا ۔ سنگ بنیاد پر آیت قرآنی ، قطعہ تاریخ تاسیس اور دیگر تفصیلات درج ہے یہ سنگ بنیاد فی الوقت اردو زبان کی طرح زمین میں دھنسایا جارہا ہے اور جان بوجھ کر وہاں کوڑا کرکٹ ڈالا جارہا ہے ۔ اردو کے نام پر روٹیاں سینکنے والوں کی بے حسی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ایک دن ایسا بھی آئے گا جب سنگ بنیاد کو وہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غائب کردیا جائے گا ۔
اردو والوں کی بے حسی کمزوری ، مجرمانہ غفلت اور اپنی زبان کے تحفظ کے بارے میں جھوٹے دعوؤں کے باعث ہی نہ صرف اس یونیورسٹی بلکہ سرکاری اداروں میں اردو تحریر کو مٹایا جارہا ہے جب کہ اردو والوں کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ کسی قوم کی شناخت کو مٹانے سے پہلے اس کی زبان کو مٹایا جاتا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ آرٹس کالج میں شعبہ فارسی ، شعبہ اردو ، شعبہ عربی کام کرتے ہیں لیکن ان شعبوں سے وابستہ اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلبہ نے ہزاروں مرتبہ سنگ بنیاد کی ابتر حالت کا مشاہدہ ضرور کیا ہوگا لیکن ان کے ہاتھ وہاں جمع کوڑا کرکٹ کی صفائی اور تاریخی تختی کی حفاظت کے لیے کبھی آگے نہیں بڑھے ۔ ہمارے شہر میں اردو کی درجنوں تنظیمیں ہیں جو اردو کے نام پر ایوارڈس کی تقسیم کا اہتمام کرتی ہیں اردو کے نام پر دکانات چلاتی ہیں لیکن ان کاغذی تنظیموں کے عہدیداروں کو بھی اردو کے تحفظ سے کوئی دلچسپی نہیں انہیں بس اخبارات میں نام شائع ہونے کی فکر دامن گیر رہتی ہے ۔ کاش یہ لوگ عثمانیہ یونیورسٹی آرٹس کالج پہنچ کر سنگ بنیاد کو صاف کرتے وہاں سے کوڑا کرکٹ کی نکاسی کو یقینی بناتے تو کتنا اچھا ہوتا ویسے بھی یونیورسٹی حکام کو بھی اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔۔