یو پی حکومت کا سپریم کورٹ میں ویژن ڈاکومینٹ داخل
نئی دہلی ۔ 24 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت اترپردیش نے 17 ویں صدی کی یادگار عمارت تاج محل کے تحفظ پر ایک ویژن ڈاکومینٹ پر اس کی ڈرافٹ رپورٹ میں جو آج سپریم کورٹ میں داخل کی گئی تجویز پیش کی کہ پورے تاج محل پراوکٹ کو نو پلاسٹک زون قرار دیا جانا چاہئے اور اس علاقہ میں آلودگی پیدا کرنے والی تمام صنعتوں کو بند کیا جانا چاہئے۔ حکومت اترپردیش جسٹس ایم بی لوکر اور دیپک گپتا پر مشتمل ایک بنچ کے پاس اس معاملہ کو پیش کیا۔ یہ ویژن ڈاکومینٹ سپریم کورٹ کی برہمی کے بعد داخل کیا گیا جس میں سپریم کورٹ نے 11 جولائی کو مغلیہ دورحکومت کی اس یادگار کے تئیں حکومت اترپردیش کی بے اعتنائی پر برہمی کا اظہار کیا تھا جسے دنیا کے سات عجائب میں ایک سمجھا جاتا ہے اور یہ ایک بڑا سیاحتی مرکز ہے جہاں سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اسے دیکھنے کیلئے یہاں آتی ہے۔ حکومت اترپردیش کی جانب سے ایڈوکیٹ ایشوریہ بھٹی نے اس بنچ سے کہا کہ انہیں یہ دستاویز داخل کرنے کی اجازت دی جائے جس پر عدالت نے اس ایڈوکیٹ کو مسودہ داخل کرنے کی اجازت دی۔ حکومت اترپردیش نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ پورے تاج محل پراوکٹ کو نو۔ پلاسٹک زون قرار دیا جانا چاہئے اور بوتل کے پانی پر بھی امتناع عائد کیا جانا چاہئے۔ ریاستی حکومت نے کہا کہ اس علاقہ میں آلودگی کا باعث بننے والی تمام صنعتوں کو بند کیا جانا چاہئے اور یہاں مزید سیاحتی مراکز قائم کئے جانے چاہئے۔ اس نے کہا کہ تاج ہیریٹیج پراوکٹ میں پیدل راہروں کی سہولت اور آسانی کیلئے ایک جامع ٹریفک مینجمنٹ پلان کی ضرورت ہے۔
لوک پال، بہتر حلفنامہ کی پیشکشی کیلئے حکومت کو سپریم کورٹ کی ہدایت
نئی دہلی، 24جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج لوک پال کی تقرری کے معاملے پر مرکزی حکومت کے حلف نامہ پر عدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے چار ہفتہ کے اندر بہتر حلف نامہ دائر کرنے کا حکم دیا۔چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے لوک پال کی تقرری نہیں کئے جانے کے سلسلے میں مرکز کی طرف سے دائرحلف نامہ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور اس سے کہا کہ وہ چار ہفتہ کے اندر بہتر حلف نامہ دائر کرے ۔ بنچ کے دیگر اراکین میں جسٹس اے ایم کھانولکر ا ورڈی وی چندر چوڑ شامل ہیں۔سینئر وکیل اور عرضی گذار پرشانت بھوشن نے عدالت میں کہا کہ کئی مرتبہ حکم دئے جانے کے باوجودمرکزی حکومت لوک پال کی تقرری کے سلسلے میں کوئی وقت مقرر نہیں کرسکی ہے ۔سالسٹر جنرل کیطرف سے دائر حلف نامہ میں اسٹینڈنگ کمیٹی کی 19جولائی کی میٹنگ کے بارے میں تفصیل سے معلومات دی گئی ہے ۔ عدالت عظمی نے اس پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بہتر حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا ۔ معاملے کی سماعت چار ہفتے بعد ہوگی۔