نئی دہلی ۔ 26 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے آج تاج محل کے تحفظ اور اسے محفوظ رکھنے پر ویژن ڈاکومنٹ کی ایک مسودہ رپورٹ داخل کرنے پر حکومت اترپردیش کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا جسٹس ایم بی لوکر اور دیپک گپتا پر مشتمل ایک بنچ نے حکومت اترپردیش پر شدید تنقید کی اور اس معاملہ میں ریاستی حکومت کی فکر کے بارے میں سوال کیا ۔اس بنچ نے حکومت اترپردیش کی نمائندگی کرنے والے وکیل سے پوچھا کہ ’’ آخر آپ نے ایک مسودہ پلان کیوں دیا ہے ؟ کیا ہم یہ سمجھیں کہ یہ آپ کی جانچ کیلئے ہے ۔ کیا پس پر توجہ دینا ہمارا کام ہے ؟ ‘‘ سپریم کورٹ نے کہاکہ حیرت کی بات ہیکہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا ( اے ایس آئی ) نے جو سترھویں صدی کی اس یادگار عمارت کے تحفظ کیلئے ذمہ دار ہے ۔مسودہ رپورٹ کی تیاری میں صلاح و مشورہ نہیں کیا گیا ۔ سماعت کے دوران اس بنچ نے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال سے پوچھا کہ آیا مرکز یا متعلقہ عہدیداروں نے تاج محل پر مینجمنٹ پلان پیرس میں یونیسکو کے ورلڈ ہیریٹج سنٹر میں داخل کی ۔ بنچ نے وینو گوپال سے پوچھا کہ اگر یونیسکو یہ کہا کہ ہم تاج محل کے ورلڈ ہیریٹیج ٹیاگ کو واپس لیں گے تو پھر کیا ہوگا ۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ تاج محفل دنیا کے سات عجائبات میں ایک ہے اور اگر اس تاریخی یادگار عمارت کے ورلڈ ہیریٹیج ٹیاگ کو واپس لیا گیا تو یہ ملک کیلئے بڑی مشکل ہوگی ۔ عدالت عظمی کی اس بنچ نے اٹارنی جنرل سے یہ بھی پوچھا کہ تاج ٹریپیز ٹیم زون (TTZ) کے مینٹیننس کیلئے مرکز اور ریاستی حکومت کا کونسا محکمہ ذمہ دار ہے ۔ ٹی ٹی زیڈ تقریباً 10,400 مربع کلومیٹر کا رقبہ ہے جو اترپردیش کے اضلاع آگرہ ‘ فیروز آباد ‘ متھرا ‘ ہتراس اور ایٹاہ اور راجستھان کے ضلع بھرت پور میں پھیلا ہوا ہے ۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت سے یہ بھی کہاکہ یہ ڈرافٹ رپورٹ کنزرویشن ایکسپرٹس کے پیانل کو سربراہ کرے بشمول انٹیک ( انڈین نیشنل ٹرسٹ فار آر اینڈ کلچر ہیریٹیج) کو تاکہ ان کی رائے لی جائے ۔ اسبنچ نے ویژن ڈاکومنٹ کی ڈرافٹ رپورٹ پر مزید پیشرفت کیلئے اس معاملہ کی سماعت 28اگست کو مقرر کی ہے ۔