بی سی ہاسٹلس میں مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات،2000 داخلے یقینی بنانے پرنسپال سکریٹری کا مشورہ

حیدرآباد ۔ 12 ۔ مئی (این ایس ایس) پرنسپال سکریٹری محکمہ بہبودیٔ پسماندہ طبقات حکومت تلنگانہ نے کہا ہے کہ وزراء کے ایک گروپ نے 8 مئی کو منعقدہ اپنے اجلاس میں تلنگانہ کے تمام بی سی ہاسٹلس میں سماجی اور تعلیمی طورپر پسماندہ مسلم طبقات کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے ہیں۔ بی سی ویلفیر ہاسٹلس میں داخلوں کی تفصیلات کے تجزیہ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ بی سی ویلفیر ہاسٹلس میں سال 2013-14 ء کے دوران 55,691 نشستوں کی منظوری دی گئی تھی جن کے منجملہ سماجی اور تعلیمی طورپر پسماندہ مسلم امیدواروں نے گروپ ای کے تحت صرف چند ہی درخواست دی تھی اور انہیں داخلے ہوسکے۔ ایسے اکثر طلبہ نے پری میٹرک ہاسٹلوں میں داخلہ لیا۔ اگرچہ ان ہاسٹلوں میں داخلہ کیلئے کوئی تحریری امتحان نہیں لیا جاتا ، اس کے باوجود مسلمانوںکو 4 فیصد تحفظات کے مطابق محفوظ نشستوں پر داخلے نہیں ہوسکے ہیں، جس کی اہم وجہ یہ سمجھی جارہی ہے کہ دیہی اور شہری علاقوں میں رہنے والے سماجی و تعلیمی طورپر پسماندہ مسلم طبقات اس سہولت سے باخبر نہیں ہے۔ پرنسپال سکریٹری نے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر ، غیر سرکاری تنظیموں اور حتیٰ کہ مسجدوں کے ذمہ داروں پر زور دیا ہے کہ وہ مستحق مسلمانوں کو اس سرکاری اسکیم سے واقف کرائیں اور بی سی ویلفیر ہاسٹلس میں 2000 پسماندہ مسلم طلبہ کے داخلوں کو یقینی بنائیں۔