بی جے پی گھبراہٹ کا شکار ‘ شکست سے بچنے زہریلی سیاست پر عمل پیرا

نئی دہلی 2 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) اس یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہ ان کی پارٹی دہلی میں اقتدار حاصل کریگی عام آدمی پارٹی سربراہ اروند کجریوال نے آج کہا کہ بی جے پی گھبراہٹ کا شکار ہوگئی ہے اور وہ شکست سے بچنے کیلئے زہریلی سیاست پر اتر آئی ہے ۔ 70 رکنی دہلی اسمبلی کیلئے رائے دہی سے پانچ دن قبل کجریوال نے پیش قیاسی کی کہ کانگریس پارٹی کو اس بار ایک بھی نشست حاصل نہیں ہوگی اور انہیں حکومت تشکیل دینے کیلئے اس پارٹی کی تائید حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑیگی جیسا کہ سابق میں ہوا تھا ۔ سابق چیف منسٹر دہلی نے کہا کہ دہلی کے انتخابات کی اہمیت دہلی کی سرحدات سے کہیں دور تک ہے اسی لئے بی جے پی نے اپنے بڑے بڑے قائدین کو یہاں مہم چلانے کیلئے میدان میں اتار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی گھبراہٹ کا شکار ہوگئی ہے اسی لئے اس نے اپنے بڑے قائدین کو میدان میں اتار دیا ہے ۔ یہ قائدین ان کے خلاف شخصی حملے کر رہے ہیں ۔ ان کے خاندان اور ان کی برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی مایوسی اور الجھن کا شکار ہوگئی ہے ۔ جنوبی دہیلی کے ایک چرچ پر آج صبح ہوئے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے جس طرح سے اتر پردیش میں انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے ہتھکنڈے اختیار کئے تھے وہی یہاں بھی اختیار کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی سیاست ہی ایسی ہے ۔ وہ سماج کو تقسیم کا شکار کرنے کی کوشش کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ( عام آدمی پارٹی ) محبت اور اخوت کی سیاست کرتے ہیں اور وہ زہریلی سیاست کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان پر کہ دہلی میں اگر بی جے پی حکومت آجائے تو بہتر ہوگا اور وہ مرکز میں بی جے پی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرسکتی ہے کجریوال نے کہا کہ اگر ان کی پارٹی بھی اقتدار پر آجاتی ہے تو وہ مودی کے ساتھ تعمیری جذبہ کے ساتھ کام کریگی ۔ بی جے پی کی وزارت اعلی امیدوار کرن بیدی کے تعلق سے کجریوال نے کہا کہ اگر وہ چیف منسٹر بن جاتی ہیں تو وہ ان کا موقف وہی ہوگا جو یو پی اے حکومت میں منموہن سنگھ کا تھا ۔ ان کی اپنی کوئی زبان نہیں ہوگی ۔ کجریوال انا ہزارے کی مخالف رشوت مہم کے دوران بیدی کے ساتھ کام کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بیدی سے ہمدردی ہے کیونکہ بی جے پی نے انہیں پھنسایا ہے ۔ کجریوال نے کہا کہ دہلی کے عوام کو کرپشن ‘ مہنگائی اور سکیوریٹی کے مسائل درپیش ہیں اور دہلی کے عوام کی زندگیاں ہی ان انتخابات میں داؤ پر ہیں۔ ان کی پارٹی اگر اقتدار پر آجاتی ہے تو برقی شرحوں میں نصف کٹوتی کی جائیگی اور رشوت کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی ۔ اس سوال پر کہ آیا وہ چیف منسٹر بننے کے بعد بھی دھرنا کرینگے کجریوال نے کہا کہ اگر ضرورت پڑتی ہے تو وہ یقینا ایسا کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال جس کارروائی کی متقاضی ہوگی وہ کرینگے ۔ چاہے وہ بات چیت ہو ‘ مباحث ہوں یا جدوجہد ہو وہ سب کچھ کرینگے ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ دہلی انتخابات میں ان کی پارٹی کیلئے عوام کی بہترین تائید حاصل ہے اور عوام چاہتے ہیں کہ ان کی پارٹی یہاں دوبارہ اقتدار حاصل کرے ۔