نئی دہلی 16 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک ہفتہ قبل ہی بی جے پی صدر بنائے گئے امیت شاہ نے آج پارٹی کے نئے عہدیداروں کا تقرر عمل میں لایا ہے اور انہو نے سابق چیف منسٹر کرناٹک مسٹر بی ایس یدیورپا اور آر ایس ایس کے لیڈر رام مادھو کو اہم عہدے دئے ہیں۔ امیت شاہ نے اپنی نئی ٹیم میں نوجوانوں اور تجربہ کار قائدین کو شامل کیا ہے ۔ اس ٹیم میں انہوں نے تاہم ورون گاندھی کو شامل نہیں کیا ہے جو سابقہ عہدیداروں میں شامل تھے ۔ ورون گاندھی سلطان پور حلقہ کی لوک سبھا میں نمائندگی کرتے ہیں۔ امیت شاہ نے آج جس ٹیم کا اعلان کیا ہے اس میں 11 نائب صدور ‘ آٹھ جنرل سکریٹریز اور 14 سکریٹریز ہیں ۔ اس کے علاوہ پارٹی نے 10 ترجمان مقرر کئے ہیں جن میں پانچ نئے ہیں۔ آج کی کارروائی کا اصل حصہ یہ ہے کہ نوجوان رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی کو پارٹی میں کوئی عہدہ نہیں دیا گیا ہے جبکہ چند دن قبل ہی ورون گاندھی کی والدہ و مرکزی وزیر منیکا گاندھی نے اپیل کی تھی کہ ان کے فرزند کو اتر پردیش میں وزارت اعلی امیدوار کی حیثیت سے پیش کیا جانا چاہئے ۔ ذرائع نے کہا کہ چند دن قبل ہی ورون گاندھی کو اس ٹیم میں عدم شمولیت کی اطلاع دیدی گئی تھی
اور کہا گیا تھا کہ وہ اتر پردیش میں مہم چلانے کیلئے آزاد رہیں گے جہاں پارٹی کو امید ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں اکثریت حاصل ہوجائیگی ۔ اتر پردیش میں 2007 میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ ورون گاندھی کی والدہ منیکا گاندھی مودی کابینہ میں شامل ہیں اس لئے بھی ورون گاندھی کو ٹیم میں جگہ نہیں دی گئی ہے ۔ امیت شاہ نے جنرل سکریٹریز کی حیثیت سے جے پی نڈا ‘ راجیو پرتاپ روڈی اور مرلیدھر راؤ کو برقرار رکھا گیا ہے ۔ رام لال جنرل سکریٹری تنظیمی ہونگے ۔ چار نئے جنرل سکریٹریز میں رام مادھو ‘ سروج پانڈے ‘ رام شنکر کتھیریا اور بھوپیندر یادو شامل ہیں۔ یدیورپا کو پارٹی کے نائب صدور میں شامل کیا گیا ہے جو لوک سبھا انتخابات کے عین قبل پارٹی میں واپس ہوئے تھے جبکہ وہ کچھ عرصہ قبل بی جے پی سے علیحدہ ہوگئے تھے ۔ مختار عباس نقوی کو پارٹی نائب صدر کی حیثیت سے برقرار رکھا گیا ہے ۔ پارٹی ترجمان سدھانشو ترویدی نے کہا کہ امیت شاہ کی ٹیم میں پرجوش نوجوان اور تجربہ کار قائدین شامل کئے گئے ہیں اور علاقوں کا توازن بھی برقرار رکھا گیا ہے ۔ سکندرآباد ایم پی دتاتریہ کو بھی نائب صدر بنایا گیا ہے ۔