طلاق ثلاثہ سپریم کورٹ میں کالعدم ہونے کے بعد قانون بن چکا : کانگریس
نئی دہلی ، 19 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کی نظر میں بہ یک وقت تین طلاق دینے کے عمل کو تعزیری جرم بنانے کیلئے آرڈیننس لانے حکومت کا فیصلہ ’’خواتین کو بااختیار‘‘ بنانے کی سمت بہت بڑا قدم ہے جبکہ کانگریس نے آج اپنے ردعمل میں مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ کو مسلم خواتین سے انصاف کے معاملے کی سے کہیں زیادہ سیاسی فٹبال سمجھ رہی ہے۔ صدر بی جے پی امیت شاہ نے تین طلاق کے عمل کو قابل سزا جرم بنانے والے آرڈیننس کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خوداحتسابی کا معاملہ اور اُن سیاسی جماعتوں کیلئے احساس جرم کی بات بھی ہے جنھوں نے اپنے ووٹ بینک سیاست کے سبب اس عمل (طلاق ثلاثہ) سے مسلم خواتین کو متاثر ہونے دیا۔ قومی ترجمان بی جے پی سمبت پاترا نے کانگریس پر نکتہ چینی میں کہا کہ کپل سبل جو اپوزیشن پارٹی کے لیڈر ہیں اُنھوں نے اس طریقۂ کار طلاق کا سپریم کورٹ میں دفاع کیا تھا۔ کانگریس کے ترجمان اعلیٰ
رندیپ سرجے والا نے کہا کہ حکومت کانگریس کی درخواست پر راضی نہ ہوئی کہ اُن افراد کی جائیداد قرق کرنے کی گنجائش رکھی جائے جو طلاق دینے کے بعد متاثرہ خواتین اور بچوں کو گزارہ فراہم نہیں کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ ’’غیرقانونی، غیردستوری اور غیرانسانی طریقہ‘‘ ہے جسے سپریم کورٹ نے کالعدم کردیا ہے۔ سپریم کورٹ کالعدم کردینے کے بعد یہ قانون بن چکا ہے۔
آرڈیننس پر عشرت جہاں مسرور!
دریں اثناء طلاق ثلاثہ کیس میں عرضی پیش کرنے والی عشرت جہاں نے چہارشنبہ کو مرکزی کابینہ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا کہ طلاق کے اس طریقہ کو تعزیری جرم بنانے کیلئے آرڈیننس لایا جائے۔ کولکاتا میں عشرت نے کہا کہ ملک میں مسلم خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت یہ بڑا قدم ہے۔ ’’مسلم مردوں اور مذہبی رہنماؤں کو اب اپنے رویے میں تبدیلی لانا چاہئے یا پھر انجام بھگتنے تیار رہنا چاہئے‘‘۔