لکھنؤ ۔ 14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے آج الزام عائد کیا ہیکہ شیوسینا نے مسلمانوں کو رائے دہی کے حق سے محروم رکھنے کا مطالبہ بی جے پی کی ایماء پر کیا ہے۔ آج ڈاکٹر امبیڈکر کی یوم پیدائش تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ مسلمانوں کو رائے دہی کے حق سے محروم رکھنے کے بارے میں شیوسینا کا بیان غیردستوری ہے۔ شیوسینا نے دراصل بی جے پی کی ایماء پر یہ بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر بی جے پی کو چاہئے کہ وہ مرکز میں این ڈی اے حکومت سے شیوسینا کو نکال باہر کرے۔ شیوسینا نے یہ کہتے ہوئے ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا کہ مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کردیا جانا چاہئے کیونکہ مسلمانوں کو اکثر ووٹ بینک سیاست کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس تبصرہ پر مختلف سیاسی جماعتوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عوام کو تقسیم کرنے
اور انہیں بھڑکانے کی کوشش کا الزام عائد کیا تھا۔ مایاوتی نے اپوزیشن جماعتوں بشمول کانگریس اور بی جے پی پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں ’’مخالف دلت‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس، بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کی بابا صاحب سے محبت صرف سیاسی محرکات پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ڈاکٹر امبیڈکر کو 1952ء میں پہلے لوک سبھا انتخابات میں دولت کے استعمال کے ذریعہ شکست دلائی۔ اگر کانگریس کے پاس باباصاحب کیلئے تھوڑی سی بھی عزت ہوتی تو ان کا بلامقابلہ انتخاب یقینی بنایا جاتا۔ مایاوتی نے کہا کہ کانگریس جس نے آزادی کے بعد سب سے زیادہ عرصہ تک حکومت کی، ڈاکٹر امبیڈکر کو بھارت رتن دینا مناسب نہیں سمجھا۔ 1989ء میں وی پی سنگھ حکومت نے انہیں یہ اعزاز عطا کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وی پی سنگھ حکومت کو بی ایس پی کی مشروط تائید کی وجہ سے منڈل کمیشن رپورٹ پر عمل ہوسکا۔