بی جے پی کی انتخابی ناکامی ناانصافی اور جھوٹی باتوں کی شکست: شیوسینا

ممبئی 13 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) شیوسینا نے آج بھی اپنی سینئر حلیف پارٹی بی جے پی پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہاکہ حالیہ ریاستی انتخابات میں اِس کی ناکامی، ناانصافی اور جھوٹوں باتوں کی شکست ہے۔ تاہم صدر کانگریس راہول گاندھی نے اُنھیں اپنے مستحکم گڑھ میں شکست دی ہے۔ یہ ناانصافی اور جھوٹی باتوں کی شکست ہے۔ تکبر اور انا نے اِس پر قبضہ جمالیا تھا۔ شیوسینا نے اپنے پارٹی ترجمان ’سامنا‘ کے ایک اداریہ میں تحریر کیا کہ ہماری تہذیب یہ ہے کہ ایک کے نقصان کو اپنا نقصان سمجھا جاتا ہے۔ کسی کی بھی کامیابی کو انکسار کے ساتھ تسلیم کیا جاتا ہے تاہم یہ تہذیب لوک سبھا انتخابات کے بعد جو 2014 ء میں ہوئے تھے، ختم ہوچکی ہے۔ بی جے پی نے اپنی حکومتیں کانگریس کے مقابلے میں ہندی داں ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے حالیہ انتخابات میں کھودی ہیں۔ شیوسینا نے کہاکہ جن افراد نے پارٹی کی تعمیر کی تھی اُنھیں نکال باہر کیا گیا۔ جن دوستوں نے بُرے وقتوں میں دوستی ترک نہیں کی اُنھیں دشمن قرار دیا جارہا ہے۔ جو لوگ آپ کو گرد سے اُٹھاکر لائے تھے خود آج تباہ ہوگئے۔ وہ ایک بھی ریاست میں اپنی کامیابی حاصل نہیں کرسکے کیوں کہ ملک کو صنعتکاروں کی ضرورت نہیں ہے۔ شیوسینا نے کہاکہ وزیراعظم ہر ریاست میں طنز کے تیر چلاتے ہوئے راہول گاندھی پر تنقید کرتے ہیں۔ اُنھیں معیار کی پستی کا احساس تک نہیں ہوتا۔ وہ ایک دستوری عہدہ پر ہیں جس کا وقار اُنھیں ملحوظ رکھنا چاہئے۔ مودی کی انا اُنھیں انکسار کے ساتھ اپنی ناکامی قبول کرنے سے روک رہی ہے۔ اُنھوں نے راہول گاندھی کو کامیابی پر مبارکباد دی ہے اور بی جے پی کی شکست کو اُن سے ہی منسوب کرنا چاہئے کیوں کہ اُنھوں نے کابینی وزراء کی انتخابی مہم کے لئے خدمات حاصل کی تھیں۔ شیوسینا مہاراشٹرا اور مرکز دونوں جگہ بی جے پی کی حلیف ہے۔