بی جے پی مذہب کی بنیاد پر تحفظات کی مخالف: امیت شاہ

ہندوؤں پر حملہ کیلئے کے سی آر ذمہ دار،بی جے پی صدر کی سادھوؤں اور کارکنوں سے ملاقات،تلنگانہ کے اقتدار پر نظریں
حیدرآباد ۔10۔ اکتوبر (سیاست نیوز) بی جے پی کے قومی امیت شاہ نے کہا کہ ان کی پارٹی مذہب کی بنیاد پر تحفظات کی فراہمی کے خلاف ہے اور اس طرح کی کسی بھی کوشش کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ امیت شاہ جو کریم نگر میں بی جے پی کے جلسہ عام سے خطاب کیلئے حیدرآباد پہنچے، نمائش میدان پر لوک سبھا حلقہ جات حیدرآباد ، سکندرآباد ، ملکاجگیری اور چیوڑلہ کی بوتھ کمیٹیوں کے صدور اور کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2019 ء میں بی جے پی کی کامیابی کے خوف سے کے سی آر نے چھ ماہ قبل ہی وسط مدتی انتخابات کا فیصلہ کیا ہے ۔ تلنگانہ اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے بعد امیت شاہ پہلی مرتبہ حیدرآباد پہنچے۔ بیگم پیٹ پر وہ خصوصی طیارہ سے پہنچے جہاں بی جے پی کے سینئر قائدین نے استقبال کیا۔ امیت شاہ نے بنجارہ ہلز میں سری اگرسین جینتی تقاریب میں شرکت کی ۔ اگرسین کے مجسمہ پر پھول نچھاور کئے ۔ اس تقریب میں سابق چیف منسٹر کے روشیا ، سابق وزراء کے ٹی آر ، محمود علی اور مختلف تنظیموں کے قائدین نے شرکت کی۔ بعد میں امیت شاہ کاچیگوڑہ میں واقع شیوم مندر پہنچے جہاں سادھوؤں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ امیت شاہ نے تروملا تروپتی کے دیوستھانم میں جاری تنازعہ کے بارے میں سادھوؤں سے بات چیت کی ۔ سادھوؤں نے امیت شاہ سے شکایت کی کہ تلنگانہ میں ہندوؤں پر حملے ہورہے ہیں لیکن حکومت کسی بھی کارروائی سے قاصر ہے۔ حملہ کرنے والے افراد کی تائید حکومت کر رہی ہے۔ امیت شاہ پارٹی کارکنوں سے خطاب کے دوران انتخابی لائحہ عمل کے بارے میں مفید مشورے دیئے ۔ امیت شاہ نے تلنگانہ میں خاندانی حکومت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی برسر اقتدار آنے پر بیٹے اور بیٹیاں اقتدار میں نہیں رہیں گے اور حقیقی معنوں میں عوام کا اقتدار رہے گا۔ 2019 ء میں نریندر مودی کی لہر میں کے سی آر بہہ جانے کے خوف سے چھ ماہ قبل انتخابات کا فیصلہ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کیلئے عاجلانہ انتخابات سے متعلق ٹی آر ایس کا دعویٰ مضحکہ خیز اور ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد بیٹے یا بیٹی کو چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کرنے کیلئے وسط مدتی چناؤ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ امیت شاہ نے کہا کہ بی جے پی مذہب کی بنیاد پر تحفظات کو قبول نہیں کرے گی ۔ انہوں نے چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی پر عوام کو مشتعل کرنے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ روہنگیائی عوام کی آمد پر وہاں کی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے کے سی آر حکومت پر عوام کے بنیادی مسائل کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا ۔ کے سی آر یو پی اے حکومت میں وزیر تھے لیکن اس وقت 13 ویں فینانس کمیشن کے ذریعہ تلنگانہ کو 16,597 کروڑ روپئے منظور کئے گئے تھے لیکن موجودہ 14 ویں فینانس کمیشن نے ایک لاکھ 15 ہزار 605 کروڑ روپئے منظور کئے ہیں۔ اس کے باوجود کے سی آر مودی حکومت پر تلنگانہ سے ناانصافی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن، رکن پارلیمنٹ بنڈارودتا تریہ ، قومی جنرل سکریٹری مرلیدھر راؤ اسمبلی میں سابق فلور لیڈر کشن ریڈی اور دوسروں نے امیت شاہ کا استقبال کیا۔