چیف منسٹر کی خواہش کی عدم تکمیل پر کانگریس میں انضمام سے انکار ، جئے رام رمیش
حیدرآباد 18 اپریل (سیاست نیوز) مرکزی وزیر مسٹر جئے رام رمیش نے کہا کہ ٹی آر ایس کبھی بھی فرقہ پرست بی جے پی سے اتحاد کرسکتی ہے۔ چیف منسٹر بنانے کی خواہش پوری نہ کرنے پر کے چندر شیکھر راو نے ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کرنے سے انکار کردیا ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل میں اہم رول ادا کرنے والے مرکزی و زیر مسٹر جئے رام رمیش نے صدر کانگریس مسٹر سونیا گاندھی کی جانب سے علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل میں ٹی آر ایس کا کوئی رول نہ ہونے کے ریمارک کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واقع ٹی آر ایس کا کوئی رول نہیں تھا لوک سبھا میں ٹی آر ایس کے صرف 2 ارکان پارلیمنٹ تھے مسٹر کے چندر شیکھر راو اور مسز وجئے شانتی کبھی ایک دوسرے سے بات چیت بھی نہیں کرتے تھے ۔ راجیہ سبھا میں ٹی آر ایس کا کوئی نمائندہ بھی نہیں تھا۔ انہو ںنے کہا کہ سربراہ ٹی آر ایس نے کانگریس سے وعدہ کیا تھا جس دن علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا جائے گا وہ اسی دن ٹی آر ایس کوکانگریس میں ضم کردیں گے ۔ کانگریس اپنے وعدے پر قائم رہی مگر ٹی آر ایس کے سربراہ مسٹر کے چندر شیکھر راو اپنے وعدے سے منحرف ہوگئے سربراہ ٹی آر ایس نے انہیں چیف منسٹر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اس کو تسلیم نہ کرنے پر انہوں نے ٹی آر ایس کوکانگریس میں ضم کرنے سے انکار کردیا ۔ تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے بیشتر قائدین ابتداء سے ٹی آر ایس سے اتحاد کرنے کے خلاف تھے ان کا کہنا تھا کہ کانگریس علاقہ تلنگانہ میں کافی مستحکم ہے ۔علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کے بعد کانگریس کا موقف مزید مستحکم ہوگیا ہے وہ تنہا مقابلہ کرنے کے خواہشمند تھے علاقہ تلنگانہ میں کانگریس واقعی کافی طاقتور ہے وہ کئی اضلاع کے دورہ کرچکے ہیں عوام کانگریس کے ساتھ ہے ۔ مسٹر جئے رام رمیش نے کہا کہ ٹی آر ایس بے بھروسہ جماعت ہے انتخابات کے بعد وہ بی جے پی کے ساتھ جاسکتی ہے لہذا عوام کو سونچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔