ٹی آر ایس کے اندر مخالفت اور بغاوت کا سامنا، ہندو اور مسلمان کو اپنی دو آنکھیں قرار دینے والے کے سی آرہر دو کو خوش کرنے کوشاں
٭ حیدرآباد کے 8 اسمبلی حلقوں کیلئے پارٹی امیدواروں کا انتخاب مشکل
٭ ڈی ناگیندر پہلی مرتبہ اپنے پسندیدہ حلقہ سے محروم
حیدرآباد۔/19ستمبر، ( سیاست نیوز) سماجی تبدیلیوں اور عوامی جذبات کا سیاسی استعمال کرنے والے بہت ہیں اور سیاست میں یہ عام بات ہے۔ لیکن جہاں تک صدر تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے چندر شیکھر راؤ کا سوال ہے یہ ان سیاسی قائدین سے مختلف ہیں جو گنگا اور جمنا کو ملانے کی بات کرتے ہیں لیکن چندر شیکھر راؤ انہیں کبھی ملانا نہیں بلکہ ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اکثر اپنی تقاریر میں گنگا جمنی تہذیب کا تذکرہ کرتے ہیں اور اپنی دو آنکھوں کو ایک مسلمان اور ایک ہندو سے تعبیر کرتے ہیں اور اب گنگا جمنی تہذیب کی ایک نئی اصطلاح پیش کرتے ہوئے عملی اقدام کررہے ہیں۔ ماہرین اور سماجی مفکرین کے لحاظ سے ان کے اقدامات فرق برقرار رکھنے کے مترادف ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ فرق کو مٹانے کا کوئی مثبت اقدام ہو۔ صدر ٹی آر ایس ایک ہاتھ میں بی جے پی اور دوسرے ہاتھ میں مجلس کو تھامے ہوئے ہیں اور ہر دو گروپس کو خوش کرنے کے اقدام کررہے ہیں۔ ویسے تو اقتدار پر موجودگی میں بھی انہوں نے بظاہر مخالف لیکن عملی طور پر دونوں کو خوش کیا، اور اب جبکہ سیاسی جنگی میدان میں محاذ آرائی کا وقت قریب آرہا ہے صدر ٹی آر ایس دونوں کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہتے اور نہ ہی دونوں کا ہاتھ چھوڑنا چاہتے ہیں۔ اس اقدام کیلئے انہیں خود اپنی پارٹی میں اندرونی مخالفت اور بغاوت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے لیکن وہ کسی کی پرواہ نہیں کررہے ہیں۔ شہر میں ان دنوں نشستوں پر امیدواروں کا اعلان اس اُلفت و محبت کی دلیل تصور کیا جارہا ہے جو ان کی گنگا جمنی تہذیب کی نئی اصطلاح کی عکاسی کرتا ہے۔ جماعت کے جو حلقے ہیں ان حلقوں میں غیر مسلم امیدواروں کو اہمیت دی گئی اور دیگر مقامات جہاں پر بی جے پی کے حلقے ہیں ان میں کمزور امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا گیا۔ عنبرپیٹ حلقہ سے جو بی جے پی کا مضبوط گڑھ اور سابق صدر کے لئے محفوظ حلقہ تصور کیا جاتا رہا ہے اس حلقہ سے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے دانم ناگیندر کو نظر انداز کردیا گیا جو بی سی رائے دہندوں کی خاطر خواہ تعداد ہونے کے سبب اس حلقہ سے پارٹی ٹکٹ کے دعویدار تھے۔ انہیں عنبرپیٹ کے بجائے گوشہ محل حلقہ سے مقابلہ کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہاہے۔ ناگیندر کے متعلق مشہور ہے کہ وہ اکثر پارٹی بدلتے ہیں لیکن جہاں کہیں بھی جاتے ہیں ان کی مرضی کے مطابق انہیں اہمیت دی جاتی ہے لیکن اس مرتبہ اس دَل بدلو نیتا کا نام حاصل کرنے والے قائد کو اپنی مرضی چلانے کا کوئی موقع دستیاب نہیں۔ خیریت آباد، مشیرآباد میں تاحال امیدواروں کے ناموں کا اعلان بھی نہیں کیا گیا جبکہ جماعت کے حلقوں میں جہاں ایک طرف پارٹی کے مسلم قائدین کو مقابلہ کا موقع فراہم کرنے کی بڑی اُمیدیں تھیں ان کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا گیا اور ان حلقوں سے ایک مسلم امیدوار کے علاوہ دیگر غیر مسلم غیر معروف امیدواروں کو ٹکٹ دیا جارہا ہے۔ صدر ٹی آر ایس کی یہ سیاسی حکمت عملی اگر کامیاب ہوتی ہے تب بھی اس کا کوئی زیادہ فائدہ نہیں ہوگا۔ لیکن اگر ناکام ہوتی ہے تو وہ انہیں لے ڈوبے گی۔ گذشتہ چند دنوں سے تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے حق میں عوامی ہوا بدل چکی ہے اور گرما گئے اس سیاسی ماحول میں ٹی آر ایس کی مقبولیت بھی پگھلنے لگی ہے اب وہ خود ان حالات سے پریشانی کا شکار ہیں، اور دونوں آنکھوں سے سوائے گنگا جمنی تہذیب کے انہیں کچھ اور دکھائی نہیں دیتا کہ وہ کچھ کرسکیں۔ چونکہ وہ ان دونوںایسی جماعتوں کے درمیان ہیں جو بظاہر ایک دوسرے کے کٹر مخالف ہیں ۔ لیکن چندر شیکھر راؤ کے سیاسی ٹیبل کی زینت بن گئے ہیں۔