حیدرآباد۔/2اپریل، ( پی ٹی آئی) علاقہ تلنگانہ میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن نے 30اپریل کو انتخابات کیلئے آج اعلامیہ جاری کردیا ہے اس دوران ایک طرف بی جے پیاور تلگودیشم تو دوسری طرف کانگریس اور سی پی آئی انتخابی مفاہمت کیلئے ایک دوسرے کے قریب پہنچ رہی ہیں۔ ان حالات میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹی آر ایس کو شاید تنہا مقابلہ کرنا ہوگا۔ آندھرا پردیش کی تقسیم اب محض ایک رسمی ضابطہ رہ گئی ہے چنانچہ غیر منقسم ریاست میں آخری مرتبہ قانون ساز اسمبلی اور لوک سبھا کی نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں جس کے لئے آج سے پرچہ جات نامزدگی کی وصولیوں کا آغاز ہوگیا اور 9اپریل آخری تاریخ ہوگی۔ 12اپریل تک پرچہ جات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ ہوگی۔
ماقبل انتخابات مفاہمت کیلئے تلگودیشم اور بی جے پی کے درمیان طویل عرصہ سے جاری بات چیت اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قطعی مرحلہ میں پہنچ گئی ہے اور دونوں جماعتیں توقع ہے کہ ایک یا دو دن میں مفاہمت کے بارے میں قطعی اعلان کریں گی۔ بی جے پی کے ترجمان پرکاش جاوڈیکر نے جو آندھرا پردیش میں اپنی پارٹی کے تنظیمی اُمور کے انچارج بھی ہیں آج کہا کہ تلگودیشم کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور مفاہمت پر سب کو آگاہ کیا جائے گا۔ موصولہ رپورٹس کے مطابق بی جے پی کو تلنگانہ میں اسمبلی کی 45تا50نشستیں اور لوک سبھا کی 8نشستیں دی جائیں گی جبکہ سیما آندھرا میں لوک سبھا کی 5اور اسمبلی کی 15نشستیں دی جائیں گی۔ تلنگانہ کے 17پارلیمانی اور 119اسمبلی حلقوں میں 30اپریل کو رائے دہی ہوگی جبکہ سیما آندھرا میں 25لوک سبھا حلقوں اور 175اسمبلی حلقوں میں 7مئی کو رائے دہی ہوگی۔
سرکاری افسر سے سیاستداں بننے والے جئے پرکاش نارائن کی لوک ستہ پارٹی بھی توقع ہے کہ تلگودیشم اور بی جے پی سے مفاہمت کرے گی۔ فی الحال جئے پرکاش نارائن ہی ریاستی اسمبلی میں اس پارٹی کے واحد رکن ہیں۔ اس دوران حکمراں کانگریس میں انضمام تو دور حتیٰ کہ انتخابی مفاہمت کرنے سے ٹی آر ایس نے صاف انکار کردیا ہے چنانچہ کانگریس اب سی پی آئی کے ساتھ انتخابی مفاہمت پر بات چیت میں مصروف ہے۔ سی پی آئی کے ایک لیڈر نے کہا کہ کل اس مسئلہ پر فیصلہ کیا جائے گا۔ ٹی آر ایس نے بھی سی پی آئی سے مفاہمت کیلئے بات چیت کی تھی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ٹی آر ایس تنہا مقابلہ کرے گی۔