کولکتہ ۔ 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ترنمول کانگریس کی سربراہ اور چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی نے آج ان الزامات کو سختی سے مسترد کردیا کہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان مفاہمت ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی ترقی سے متعلق جو بھی کام ہوتے ہیں، میں اس میں حصہ لیتی ہوں۔ وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ’’اسکو‘‘ پروگرام میں اسی مقصد کے ساتھ شرکت کی تھی۔ اگر میں وہاں نہیں جاتی تو بعض لوگ کہتے کہ مجھ میں خیرسگالی کے جذبہ کا فقدان ہے۔ اگر میں جاتی ہوں تو آپ لوگ ہندو مسلم کی سیاست کرتے ہیں۔ ہر ایک چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ تمام باتیں یکساں نہیں ہوتی۔ ترنمول کانگریس چھتراپریشد پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ممتابنرجی نے کہا کہ آخر مجھے کیوں نہیں جانا چاہئے تھا۔ ہم نے اسکو پلانٹ کیلئے زمین دی ہے اور یہ پروگرام ریاست کی ترقی سے متعلق ہے۔ آخر میں اپنے کاموں کا سہرا دوسروں کے سر لینے کی اجازت کیسے دے سکتی ہوں۔ ممتابنرجی کا یہ بیان ان الزامات کے پس منظر میں آیا ہیکہ سی پی آئی ایم اور کانگریس نے مودی کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر ممتابنرجی کی موجودگی پر تنقید کی تھی۔ اسکو اسٹیل پلانٹ کے عصری شعبہ کے افتتاح کے دوران انہوں نے اسٹیج پر مودی کا ساتھ دیا تھا
جس کے نتیجہ میں اپوزیشن پارٹیوں نے ہنگامہ کھڑا کردیا اور الزام عائد کیا کہ بی جے پی اور ترنمول کانگریس میں سیاسی مفاہمت ہورہی ہے۔ شاردا اسکام اور راجیہ سبھا میں بلوں کی منظوری کیلئے بی جے پی ترنمول کانگریس پارٹی کی مدد دینا چاہتی ہے۔ اس کے عوض میں شاردا اسکام پر سی بی آئی کارروائی کو روکنے کیلئے ممتابنرجی نے مودی کا ساتھ دیا ہے۔ ممتابنرجی اور مودی نے 10 مئی کو منعقدہ ایک پروگرام میں حصہ لیا تھا اور ملک کے وفاقی ڈھانچہ کو مضبوط بنانے کی حمایت کی تھی۔ ریاستی سیاست سے پہلے ملک کی سیاست کو ترجیح دینے پر زور دیا تھا۔ چیف منسٹر مغربی بنگال نے مودی کے ساتھ دوبدو ملاقات بھی کی تھی اور ان سے قرض میں ڈوبی ہوئی ریاست مغربی بنگال کو مکمل قرض راحت دینے کی درخواست کی تھی۔ ممتابنرجی، نریندر مودی کی شدید نقاد ہیں۔ گذشتہ سال لوک سبھا انتخابات کے بعد سے وہ مودی پر تنقید کرتی آرہی ہے۔ گذشتہ سال دونوں کے درمیان تعلقات اس وقت کشیدہ ہوگئے تھے جب چیف منسٹر نے وزیراعظم کی جانب سے منعقدہ کئے اجلاسوں میں شرکت سے انکار کیا تھا۔ نریندر مودی نے انتخابی مہم کے دوران ترنمول کانگریس حکومت پر تنقید بھی کی تھی۔