بی بی سی کو حکومت اور تہاڑ جیل کی نوٹس، یو ٹیو ب نے ویڈیو ہٹا دیا

نئی دہلی۔ 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) الجھن زدہ مرکزی حکومت نے آج متنازعہ دہلی اجتماعی عصمت ریزی کے مجرم کا انٹرویو نشر کرنے پر بی بی سی کو قانونی نوٹس روانہ کردی، تاہم کہا کہ یو ٹیوب سے یہ فلم ہٹا دی گئی ہے۔ مواصلاتی کمپنیوں نے تیقن دیا ہے کہ یہ ان کے صارفین کیلئے بھی دستیاب نہیں ہے۔ تہاڑ جیل نے بھی بی بی سی کو نوٹس روانہ کرتے ہوئے ادعا کیا کہ انٹرویو کا اقتباس نشر کیا گیا۔ دریں اثناء مرکزی وزیر روی شنکر پرساد اس انٹرویو کے نشریہ کو ’’نسائیت کی توہین‘‘ قرار دیا، جبکہ برسراقتدار بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس نے متفقہ طور پر اجتماعی عصمت ریزی کے مجرم کے انٹرویو کے نشریہ کی مذمت کی۔ حکومت نے اپنی نوٹس میں کہا کہ بی بی سی نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے کہ وہ اس دستاویزی فلم کو تجارتی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کریں گی چنانچہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کا جواز ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ کے عہدیدار نے کہا کہ بی بی سی تجارتی مقصد کیلئے دستاویزی فلم کے استعمال کی کوئی رسمی اجازت نہیں لی۔ حکومت کو مزید کارروائی کیلئے بی بی سی کے جواب کا انتظار ہے۔ نوٹس کل شام حوالے کی گئی جبکہ بی بی سی نے برطانیہ میں 10 بجے شب انٹرویو نشر کیا۔ ڈائریکٹر جنرل تہاڑ جیل الوپ کمار ورما نے بھی حکومت کے مشیر قانونی کے ذریعہ بی بی سی کو قانونی نوٹس روانہ کی۔ اس نے ادعا کیا کہ فلم ساز لیسلی اَڈون نے اس شرط سے اتفاق کیا تھا کہ دستاویزی فلم تجارتی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کی جائے گی

، تاہم اس نے فلم کے حقوق بی بی سی کو حقوق کردیئے اور اس طرح اسے تجارتی مقصد کیلئے استعمال کیا۔ حکومت نے ویڈیو شیئرنگ ویب سائیٹ ’’یو ٹیوب‘‘ کو ہدایت دی تھی کہ دستاویزی فلم کو اپنی سائیٹ پر سے ہٹا دے کیونکہ یہ انتہائی حساس ہے۔ شام میں سرکاری ذرائع نے اطلاع دی کہ یو ٹیوب نے اپنی ویب سائیٹ سے یہ فلم ہٹا دی ہے۔ دریں اثناء مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے کہا کہ اس انٹرویو کا نشر ’’نسائیت کی توہین‘‘ ہے۔ اس نشریہ سے ہندوستان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ بی جے پی نے بی بی سی کے انٹرویو کے نمائش کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بی بی سی اپنے اخلاقی اقدار اور ساکھ کھو چکا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان جی وی ایل نرسمہا راؤ نے کہا کہ ممنوعہ انٹرویو کی نمائش ہندوستان کی شبیہ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ کانگریس کی سینئر قائد پریہ دت نے انٹرویو کے نشریہ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دستاویزی فلم مجرم کا دفاع نہیں کرتی بلکہ زانی کی ذہنیت کو بے نقاب کرتی ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ اس انٹرویو کے نشریہ سے انہیں صدمہ پہنچا ہے۔

انہیں متاثرہ لڑکی کے والدین کی پریشانی کا احساس ہورہا ہے جو ایک بار پھر آزمائش سے گذر رہے ہیں۔ مجرموں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے جنتا دل (یو) قائد علی انور نے کہا کہ یہ بات اہم ہے کہ حکومت مجرم کو پھانسی نہیں دے رہی ہے۔ کئی افراد کو یہ سخت سزا دی جاچکی ہے چنانچہ وہ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس مقدمہ کے مجرم کو پھانسی پر کیوں نہیں لٹکایا جاتا۔ سوشیل میڈیا کے کئی صارفین نے اور اہم شخصیات نے ویڈیو فلم کی نمائش کی تائید کی جن میں اداکاررنویر شوری بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ورما کمیٹی رپورٹ پر فوری عمل آوری کی ضرورت ہے۔ مصنف چیتن بھگت نے دستاویزی فلم کی تائید میں کہا کہ اس فلم کو دیکھنے والے ہر شخص کو اس گھناؤنے جرم کا احساس ہوجائے گا۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر پر تحریر کیا کہ اس پر امتناع عائد کرنا غلط ہوگا۔ اس سے مجرم کی ذہنیت آشکار ہوتی ہے۔اس لئے اس کی نمائش ضرور ہونی چاہئے۔

بی بی سی پر زانی کا انٹرویو ٹیلی کاسٹ
ہندوستان میں متنازعہ دستاویزی فلم پر پابندی برقرار
نئی دہلی 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) نے بتایا ہے کہ ہندوستان میں 16 ڈسمبر 2012 ء کے اجتماعی عصمت ریزی واقعہ پر متنازعہ دستاویزی فلم ٹیلی کاسٹ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اگرچیکہ یہ فلم برطانیہ میں دکھائی جائے گی لیکن حکومت ہند کی جانب سے عائد تحدیدات کی تعمیل کی جائے گی۔ وزارت داخلہ نے اعلامیہ میں بتایا ہے کہ بی بی سی نے مطلع کیا ہے کہ حکومت ہند کی ہدایت کے مطابق ہندوستان میں مذکورہ دستاویزی فلم ٹیلی کاسٹ نہیں کی جائے گی۔ تاہم برٹش میڈیا نے کل شب 10 بجے (GMT) برطانیہ میں یہ فلم ٹیلی ویژن پر ٹیلی کاسٹ کردی گئی گوکہ مرکزی وزارت داخلہ نے کل بی بی سی سے کہا تھا کہ کسی بھی مقام پر یہ فلم ٹیلی کاسٹ نہ کی جائے۔ سرکاری عہدیداروں نے بتایا کہ تہاڑ جیل میں قیدی سے انٹرویو لینے کی اجازت کے شرائط کی خلاف ورزی پر برطانوی فلمساز لیسلی وڈون کے خلاف کارروائی کا منصوبہ زیرغور ہے۔ قبل ازیں وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ جیل کے احاطہ میں شوٹنگ کیلئے قواعد و ضوابط پر نظرثانی کی جائے گی۔ جبکہ دہلی کی ایک عدالت نے بھی احکامات جاری کرتے ہوئے سزا یافتہ مجرم مکیش سنگھ کے انٹرویو کو پیش کرنے سے میڈیا کو باز رکھا ہے۔ یہ انٹرویو تہاڑ جیل میں لیا گیا تھا جبکہ عدالت کے امتناعی احکام کی اطلاع ثانی برقرار رہیں گے۔ انٹرویو میں مکیش سنگھ نے خواتین کے خلاف اہانت آمیز ریمارکس کئے ہیں جس پر مختلف گوشوں کی جانب سے غم و غصہ کا اظہار کیا جارہا ہے۔