نوئیڈہ سے اچوتانند مشرا کی گرفتاری، دو بچوں کے باپ نے جرم قبول کرلیا، یو پی پولیس کا بیان
لکھنو ، 19 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے ایک بی ایس ایف جوان کو پاکستان آئی ایس آئی ایجنٹس کے ساتھ کلیدی معلومات کا تبادلہ کرنے کے الزام پر نوئیڈہ سے گرفتار کیا ہے، اسٹیٹ پولیس کے سربراہ او پی سنگھ نے چہارشنبہ کو یہ بات کہی۔ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) نے کہا کہ اچوتانند مشرا متوطن مدھیہ پردیش (ضلع ریوا) کو یونٹ کے کام کاج کی تفصیلات، پولیس اکیڈیمی اور ٹریننگ سنٹر کے تعلق سے معلومات کے تبادلے میں ایک عورت کے ذریعہ پھنسایا گیا جس نے خود کو ڈیفنس رپورٹر ظاہر کیا۔ او پی سنگھ نے کہا کہ مشرا جو شادی شدہ ہے اور اسے دو بچے ہیں، اس سے نوئیڈہ میں پیر اور منگل کو اے ٹی ایس اور بی ایس ایف عہدیداروں نے تفتیش کی۔ بادی النظر میں معقول ثبوت ہے کہ اس نے قانون سرکاری راز کے تحت جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ ڈی جی پی نے کہا کہ اسے بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) میں 2006ء میں بھرتی کیا گیا اور وہ اس عورت سے 2016ء میں ربط میں آیا تھا۔ کچھ وقت بعد اُس نے یونٹ کے محل وقوع، اسلحہ کی تفصیلات اور بی ایس ایف کیمپ کی تصاویر جیسی معلومات کا تبادلہ شروع کیا۔ ڈی جی پی نے مزید بتایا کہ بعد میں اُس نے واٹس اپ چیاٹ شروع کی جس کا فون نمبر پاکستان میں رجسٹرڈ ہے، اور گفتگو کی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی تبدیلی مذہب اور کشمیر کے بارے میں ذہن سازی ہوتی رہی۔ پاکستانی نمبر اُس کے موبائل فون میں ’’پاکستانی دوست‘‘ کے طور پر محفوظ ہے، لیکن ڈی جی پی نے وہ نمبر کے انکشاف سے انکار کیا جس پر مشرا چیاٹنگ کررہا تھا۔ ڈی جی پی نے کہا کہ مشرا اپنا جرم قبول کرچکا ہے اور اُس کے فون اور فیس بک اکاؤنٹ سے کئی سائبر ثبوت دستیاب ہوئے ہیں۔ اسے لکھنو کی عدالت میں پیش کرتے ہوئے تفصیلی تفتیش کیلئے پولیس ریمانڈ چاہیں گے۔ یو پی اے ٹی ایس بی ایس ایف عہدیداروں اور اُن کی انٹلیجنس برانچ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
یوپی پولیس کو حزب المجاہدین کے
دہشت گرد کے دو معاونین کی تلاش
لکھنؤ ۔ 19 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش پولیس حزب المجاہدین دہشت گرد جسے گذشتہ ہفتہ گنیش چتورتھی کے دوران حملہ کی منصوبہ بندی کے سلسلہ میں گرفتار کیا گیا تھا، اس کے دو معاونین کو تلاش کررہی ہے، ایک عہدیدار نے آج یہ بات کہی۔ اسٹیٹ اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ کے انسپکٹر جنرل اسیم ارون نے کہا کہ دہشت گرد قمرالزماں (37 سال) متوطن آسام جسے پولیس کی تحویل میں دیا گیا ہے، اس نے بتایا ہیکہ وہ اور دیگر دو معاونین نے کانپور کے شیونگر محلہ میں کرایہ کا مکان لیکر قیام کیا۔ قمر جسے ڈاکٹر حریرہ اور قمرالدینہ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ اسے 13 ستمبر کو گرفتار کرلیا گیا لیکن دو دیگر معاونین پکڑے نہ جاسکے کیونکہ وہ اے ٹی ایس کی کارروائی سے دو روز قبل چلے گئے تھے۔ آئی جی نے کہا کہ ہم ان کا پتہ چلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ہم نے جموں و کشمیر پولیس کی مدد بھی لی ہے اور ہم انہیں جلد پکڑلیں گے۔