ڈھاکہ۔8مارچ ( سیاست ڈاٹ کام)بنگلہ دیش کی ہائیکورٹ نے آج اپوزیشن قائد و سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کو دھوکہ دہی کے ایک مقدمہ میں ملوث کرنے کے فیصلہ کے خلاف داخل کردہ درخواست پر اپنا فیصلہ 16مارچ تک ملتوی کردیا ۔ قبل ازیں وکیلوں نے مہلت طلب کی تھی ۔ہائیکورٹ نے فیصلہ کی تاریخ کا دوبارہ تعین کرتے ہوئے کہا کہ اپنی وزارت عظمی کے دوران 2001-2006ء کے درمیان خالدہ ضیاء کوئلہ کی کان تلاش کرنے کا ایک گتہ دینے سے متعلق دھوکہ دہی کے مقدمہ میں ملوث قرار دی گئی ہیں ۔ ایک دو رکنی بنچ کے عہدیدار نے کہا کہ عدالت نے اپنا فیصلہ ملتوی کردیا جب کہ 69سالہ صدر بی این پی کے وکلاء نے فیصلہ کا اعلان ملتوی کرنے کی خواہش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فیصلہ سے قبل چند نکات عدالت کے اجلاس پر پیش کرنا ہے ۔
خالدہ ضیاء کے وکلاء نے سابق سماعت پر جو 5مارچ کو مقرر تھی حاضر ہونے سے گریز کیا تھا ‘ دو ججس پر مشتمل بنچ نے یکطرفہ مباحث کی وکیل استغاثہ کی جانب سے سماعت کی تھی ۔ خالدہ ضیاء کے وکلاء نے سابق سماعت پر حاضر ہونے سے گریز کیا تھا ۔عدالت کا فیصلہ اُس وقت منظر عام پر آیا جب کہ بی این پی ایک عوامی حکومت مخالف مہم تھی ‘ 5جنوری سے قیادت کررہی ہے جو انتشار پسند انتخابات کی پہلی سالگرہ سے ہم آہنگ ہے ‘ ان انتخابات کا اپوزیشن پارٹی نے بائیکاٹ کیا تھا ۔ بے چینی میں تاحال 115افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں سے بیشتر مکانوں اور لاریوں کو نذرآتش کرنے کے واقعات میں زندہ جل گئے ہیں ۔ یہ مکان اور لاریاں مبینہ طور پر اپوزیشن کارکنوں یا کرایہ کے غنڈوں نے نذرآتش کی ہیں۔ 2006-2008ء تک ایمرجنسی کے دور میں جو سابق فوجی کی حمایت یافتہ عبوری حکومت نے نافذ کیا تھا ‘ اینٹی کرپشن کمیشن نے ایک مقدمہ دائر کیا تھا جس میں سابق وزیراعظم پر 12پکوریا کوئلہ کی کان کا کنٹراکٹ چینی کمپنی دینے کے سلسلہ میں رشوت خوری کی تھی ۔
کمیشن نے 26فبروری 2008ء کو مقدمہ دائر کرتے ہوئے خالدہ ضیاء اور دیگر کئی کو سرکاری خزانے کو 159 کروڑ ٹکا نقصان ہونے کا ادعا کیا تھا جو چینی کمپنی کو کوئلہ کی کان کا ٹھیکہ دینے سے حکوم تکو ہوا تھا ‘ اُسی سال 16اکٹوبر کو خالدہ ضیاء نے اُن کے ملوث ہونے کے الزام کو چیلنج کیا تھا اس کے بعد ہائیکورٹ کے حکم التواء کے تحت مقدمہ کی سماعت ملتوی کردی گئی تھی ۔ عدالت نے ایک فیصلہ بھی سنایا تھا جس میں حکومت سے وضاحت طلب کی گئی تھی کہ درخواست کے مطابق مقدمہ منسوخ کیوں نہ قرار دیا جائے ۔ یہ مقدمہ مزید 2جعلسازی کے مقدموں کے علاوہ تھا جن میں سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء نے فلاحی تنظیموں کے بہانے رقم کا غبن کیا تھا ۔ بین این پی اور اس کے دائیں بازو کے حلیف غیر معینہ مدت کی ملک گیر ناکہ بندی 6جنوری سے جاری رکھے ہوئے ہیں ۔