ہریانہ کے سرکاری اسکول میں صرف ایک ٹیچر اور ایک طالبہ
بی جے پی حکومت پر دیہاتیوں کی برہمی، مودی کے وعدوں پر سوالیہ نشان
نئی دہلی 18 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان ایک کثیر آبادی کا حامل ملک ہے۔ ہمارے ملک کی آبادی 1.3 ارب سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس قدر کثیر آبادی میں بچوں کی آبادی بھی بہت زیادہ ہے لیکن ان بچوں کے لئے جتنے اسکولس ہونے چاہئے وہ نہیں ہیں۔ کئی دیہاتوں میں اسکول بس نہ ہونے کے باعث مقامی بچوں کو کئی کیلو میٹر دور واقع اسکولس جانا پڑتا ہے۔ شہروں میں بھی سرکاری اسکولس کی حالت بُری ہے۔ تنگ و تاریک ایسی عمارتوں میں اسکولس چلائے جارہے ہیں جہاں طلبہ کے لئے پینے کے پانی اور بیت الخلاء کی سہولتیں بھی دستیاب نہیں ہیں۔ ایک عمارت میں مختلف زبانوں کے تین تین اور چار چار اسکولس چلائے جارہے ہیں۔ ان اسکولس کی حالت زار پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ مرکزی و ریاستی حکومت شعبہ تعلیم میں دلچسپی نہیں لیتی ان کے لئے بجٹ میں زیادہ سے زیادہ فنڈس مختص نہیں کئے جاتے۔ یہ تو رہی اسکولس کی حالت زار کی بات لیکن ملک کی کچھ ایسی ریاستیں بھی ہیں جہاں لڑکیوں کو اسکول بھیجنا اب بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ آج ہم آپ کو ایک ایسے اسکول کے بارے میں بتائیں گے جہاں صرف ایک ٹیچر اور ایک طالبہ ہے۔ جی ہاں… ہم گورنمنٹ گرلز سینئر سیکنڈری اسکول ریواری کی بات کررہے ہیں۔ اس اسکول میں کوئی ارکان عملہ نہیں۔ صرف ایک ٹیچر ہے جو ایک طالبہ کو پڑھاتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ریواری میلنم سٹی گڑگاؤں سے صرف 60 کیلو میٹر دوری پر ہے۔ اسکول میں ایک ٹیچر اور ایک طالبہ ہونے کے باعث سرپرست اپنے بچوں کو اس اسکول میں نہیں بھیجتے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اس سرکاری اسکول میں بچوں کو بھیجنے کے بجائے دور دراز کے خانگی اسکولس بھیجتے ہیں۔ اور ٹیچر دیا کشن نے جو سماجی علوم کے ٹیچر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ 2013 ء سے اس اسکول میں تعینات کئے گئے ہیں اور ماہانہ 70000 روپئے تنخواہ حاصل کررہے ہیں۔ پہلے اس اسکول میں 20-22 طالبات تھیں لیکن اب صرف ایک طالبہ رہ گئی ہے۔ ایک اور طالبہ اس لڑکی کے ساتھ آیا کرتی تھی لیکن گزشتہ ماہ اس کی موت ہوگئی۔ دیاکشن اسکول میں طالبات کے نہ ہونے کے لئے اساتذہ کی کمی کو ذمہ دار قرار دیا۔ انھوں نے حکام سے بھی بات چیت کی لیکن ہر اسکول میں ارکان عملہ کی کمی یا قلت ہے۔ وہ کہتے ہیں حکومت نے یہاں میری تعیناتی کی ہے اس لئے میں یہاں ہوں۔ اگر وہ میرا تبادلہ کسی اور اسکول میں کرتے ہیں تو میں وہاں چلا جاؤں گا۔ موضع لوکھی کے سرپنچ چندر ہرش یادو کا کہنا تھا کہ انھوں نے بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر کو اس بارے میں مکتوب روانہ کیا ہے لیکن ہنوز کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اگر اسکول میں ٹیچرس ہوں تو طالبات کی تعداد میں بھی اضافہ کروایا جاسکتا ہے۔ وہ جب بھی سرپرستوں سے اپنے بچوں کو اس اسکول میں شریک کروانے کی بات کرتے ہیں تو ان کا یہی جواب ہوتا ہے کہ اسکول میں ٹیچر ہی نہیں ہیں تو وہاں بچوں کو بھیجنے کا کیا فائدہ؟ ٹیچرس نہ ہوں تو بچے کیا لکھیں گے کیا پڑھیں گے اور کیا سیکھیں۔