’’بیٹا پیدا کرنا ہے تو میرے باغ کے آم کھائو‘‘ کہنا ہندوتوا کارکن کو مہنگا پڑگیا

ناسک۔25 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) شہر کی بلدیہ نے آج ہندوتوا کے ایک جہدکار سمبھاجی بھیڈے کے خلاف مقامی عدالت میں پیدائش سے پہلے بچہ کی جنس معلوم کرنے والے قانون کی مبینہ خلاف ورزی کرنے پر ایک مقدمہ دائر کردیا۔ جہاں انہوں نے کہا تھا کہ ’’بیٹا پیدا کرنا ہے تو میرے باغ کے آم کھائو‘‘ دریں اثناء میڈیکل آفیسر نائسب پرنسپل کارپوریشن ہیلتھ ڈپارٹمنٹ نے شیو پرتشٹھان کے بانی منوہر عرف سمبھاجی بھیڈے کے خلاف جوڈیشیل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس میں سیکشن 22 کی خلاف ورزی کرنے پر ایک مقدمہ دائر کردہ جو بچہ کی پیدائش سے قبل اس کی جنس معلوم کرنے کی ٹکنالوجی کی مخالفت کرتا ہے۔ میڈیکل آفیسر جلارام کوٹھاری نے یہ بات کہی۔ بھیڈے گزشتہ ماہ ادعا کیا تھا کہ کئی شادی شدہ جوڑے اس کے باغوں کے آم کھاکر بیٹے کے والدین بن گئے۔ آم طاقتور اور غذائیت سے بھر پور ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر خواتین بیٹاپیدا کرنے کی خواہاں ہیں تو وہ ان کے بھیڈے) باغ کے آم ضرور کھائیں۔ انہوں نے ناسک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ ریمارک کیا تھا۔