بین الاقوامی برادری کا سر شرم سے جھک جانا چاہئے

نئی دہلی ۔ 7 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بین الاقوامی برادری کو جانوروں کے حقوق تسلیم نہ کرنے کی بناء اپنا سر شرم سے جھکا دینا چاہئے حالانکہ یہ جانور آدم اور حوا کے دور سے انسانیت کی خدمت کرتے آرہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے جسٹس کے ایس رادھا کرشنن کی زیرقیادت بنچ نے آج یہ ریمارک کیا اور انسانوں کے ہاتھوں جانوروں کو ایذاء رسانی پر تشویش ظاہر کی۔ عدالت نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ایک نہ ایک دن ہندوستانی پارلیمنٹ جانوروں کے حقوق کو دستوری حقوق کا مرتبہ دے گی۔ جسٹس رادھا کرشنن نے کہا کہ افسوسناک پہلو یہ ہیکہ ایسا کوئی بین الاقوامی معاہدہ نہیں پایا جاتا جو جانوروں کے تحفظ کی طمانیت دیتا ہو۔ اقوام متحدہ نے اب تک صرف انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے سرگرمیاں انجام دی ہیں لیکن دیگر انواع جیسے جانوروں کے حقوق کو نظرانداز کردیا ہے۔

اس نے یہ حقیقت بھی فراموش کردی کہ جانور بشمول بیل انسانوں کیلئے اپنی جانوروں کی قربانی دیتے آرہے ہیں۔ بیماریوں سے مقابلہ اور انسانوں کی غذاء کے طور پر بھی انہیں استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس قدر طویل عرصہ گذر جانے کے باوجود جانوروں کے حقوق کو تسلیم نہ کرنے پر بین الاقوامی برادری کو اپنا سر شرم سے جھکا دینا چاہئے۔ تاہم بنچ کا یہ احساس تھاکہ اس قدیم روش میں بتدریج تبدیلی آرہی ہے۔ بنچ نے یہ احساسات ظاہر کرتے ہوئے جلی کٹو یا بیل گاڑیوں کی دوڑ پر ملک بھر میں امتناع عائد کردیا۔ عدالت نے کہا کہ بنیادی اور مرکزی اصول یہ ہیکہ جانوروں کے حقوق کو مختلف ممالک بشمول جرمنی میں تسلیم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جانور کو بھی پوری عزت وقار کے ساتھ زندگی گذارنے کا حق ہے اور اس حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا اور غیرقانونی حملوں سے اس کا تحفظ بھی کیا جانا چاہئے۔