حیدرآباد 5 نومبر (ایجنسیز) بیرونی ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانی افراد اب خود کو اس ملک کی، جہاں وہ برسرکار ہیں، سوشل سکیوریٹی اسکیم سے خود کو مستثنیٰ کرسکتے ہیں اور ریٹائرمنٹ فنڈ باڈی، ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (EPFO) کے تحت کوریج حاصل کرسکتے ہیں۔ سنٹرل پرویڈنٹ فنڈ کمشنر (سی پی ایف سی) وی پی جوائے نے کل یہ بات کہی۔ فراڈ رسک مینجمنٹ ۔ نئی دہلی میں نئے اقدامات پر ایک قومی سمینار سے مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ اس فائدہ سے استفادہ کے لئے ایک آن لائن فسیلٹی کو کارکرد بنایا گیا ہے۔ یہ اسکیم بیرون ملک کام کرنے والے ہندوستانی ایمپلائز کو ان کے میزبان ملک کی سوشل سکیوریٹی اسکیم کا حصہ نہ بننے کے آپشن کو اختیار کرنے کی اجازت دیں گی اور آجرین کو دوہرے سوشل سکیوریٹی کانٹری بیوشنس سے بچاتی ہے۔ ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ اکاؤنٹس میں رقومات کو مینج کرنے والے، ای پی ایف او نے 18 ممالک کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے۔ انھوں نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’’ہم نے اس کے پورے عمل کو ملازمین کے لئے معاون اور سازگار بنایا ہے۔ کام کے لئے بیرون ملک جانے والے ایمپلائز ایک سرٹیفکٹ آف کوریج (COC) حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ COC کیلئے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں اور اسے حاصل کرسکتے ہیں۔ جوائے نے کہاکہ اس مقصد کے لئے ایک سادہ ایک صفحہ کا درخواست فارم ہے جو ای پی ایف او کے ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ یہ اسکیم ایک محدود وقت کے لئے سمندر پار جانے والے ہندوستانی ورکرس کے لئے بہت معاون و مددگار ہے۔ انھوں نے اس اسکیم کے فوائد بتاتے ہوئے کہاکہ COC کو اختیار کرنے پر انھیں حاصل ہونے والا بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان کا پیسہ طویل مدت تک میزبان ملک میں بلاک نہیں ہوتا ہے۔ ہندوستان کے بلجیم، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، فرانس، ڈنمارک، جمہوریہ کوریا، نیدر لینڈس، ہنگری، فن لینڈ، سویڈن، Czech Republic ، ناروے، آسٹریا، کناڈا، آسٹریلیا، جاپان اور پرتگال کے ساتھ آپریشنل سوشل سکیورٹی معاہدے ہیں۔ ای پی ایف او دنیا میں ایک بہت بڑا سوشل سکیوریٹی پروائیڈر ہے جو 4.5 کروڑ سے زائد ممبرس کے ساتھ 9.26 لاکھ اداروں کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ ہر ماہ 60.32 لاکھ پنشنرس کو پنشن فراہم کرتا ہے۔