بیرون ملک سے کالا دھن واپس لانا حکومت کی ترجیح : مودی

برسبین۔ 15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج واضح طور پر کہا کہ بیرون ملک رکھے گئے کالے دھن کو وطن واپس لانا اُن کی حکومت کیلئے ’’ترجیح‘‘ ہے جبکہ انھوں نے اس مقصد کے حصول کیلئے گہرے عالمی ارتباط پر زور دیا۔ پانچ قومی برکس بلاک کے قائدین کی غیررسمی میٹنگ میں مسئلہ کالا دھن اٹھاتے ہوئے مودی نے G20 سمٹ سے قبل اس کلیدی مسئلہ کو اجاگر کیا جو بیرون ملک موجود کالے دھن کی ہر پائی واپس لانے کیلئے اُن کے عہد کی مطابقت میں ہے۔ مودی نے برکس قائدین کو بتایا کہ ’’بیرون ملک رکھا ہوا کالا دھن وطن کو واپس لانا ہمارے لئے کلیدی ترجیح ہے‘‘۔ بیرون ملک میں رکھے گئے کالے دھن کے مسئلے پر قریبی ارتباط پر زور دیتے ہوئے مودی نے یہ بھی کہا کہ یہ غیرمحسوب رقم سکیورٹی چیلنجوں سے بھی مربوط ہے۔ اب جبکہ ہندوستان کالے دھن کو واپس حاصل کرنے کیلئے کوششیں کررہا ہے، وزیراعظم پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ بیرون ملک سے کالا دھن واپس لانے کیلئے قریبی تعاون اُن کیلئے ایک کلیدی معاملہ ہے۔ G20 کے میزبان آسٹریلیا نے کل ٹیکس چوری کے خلاف ’’نہایت جارحانہ‘‘ مہم چھیڑنے کا عزم کیا۔ ہندوستان بھی ٹیکس چوری کی پناہ گاہوں کے خلاف 20 صنعت یافتہ اور ابھرتی معیشتوں کے گروپ کی جانب سے ٹھوس کارروائی کا متمنی ہے۔ ’’میرے لئے ایک کلیدی مسئلہ کالے دھن کے خلاف بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرنا رہے گا،‘‘ مودی نے یہ بات کہی، جیسا کہ وہ اپنے ملک کے اس عہد کی G20 سمٹ میں تجدید کرنے تیار ہیں کہ سرحد پار ٹیکس سے بچنے اور ٹیکس چوری سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدام ہونا چاہئے۔

ہندوستان یہ بھی توقع ہے کہ G20 سے ٹیکس کی پناہ گاہوں پر ہندوستان سے تعلق رکھنے والے کالے دھن کے بارے میں مزید معلومات کا افشاء کرنے کیلئے دباؤ ڈالے تاکہ اس غیرقانونی رقم کی واپسی میں مدد مل سکے۔ مودی کے علاوہ، چینی صدر شی جن پینگ، روسی صدر ولادیمیر پوتین، جنوبی افریقی صدر جیکب زوما اور برازیلی صدر ڈیلما روزیف دیگر قائدین ہیں جنھوں نے اس غیررسمی ملاقات میں حصہ لیا۔ امریکہ کی جانب سے دولت اسلامیہ گروپ کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ عالمی دہشت گردی کے خلاف کامیابی اس وقت مل سکتی ہے جب تمام ممالک ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔ نریندر مودی نے تمام ممالک کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر اس وقت زور دیا جب انہوں نے G20 چوٹی کانفرنس کے موقع پر فرانس کے صدر فرینکوئی ہالینڈ سے باہمی ملاقات کی ۔ دونوں قائدین اس کانفرنس کے سلسلہ میں برسبین میں ہیں۔ مودی نے ہالینڈ سے کہا کہ عالمی دہشت گردی کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ تمام ممالک ایک مشترکہ حکومت عملی اختیار کریں۔

مودی نے یہ ریمارکس ایسے تناظر میں کئے جبکہ امریکی ڈیفنس سکریٹری چک ہیگل نے یہ کہا تھا کہ دولت اسلامیہ عراق و شام ( داعش ) کے خلاف امریکہ کی زیر قیادت جو فضائی حملے کئے جا رہے ہیں ان میں مزید شدت پیدا ہوسکتی ہے ۔ مسٹر ہیگل نے کہا تھا کہ امریکی عوام کو ایک طویل اور سخت جدوجہد کیلئے تیار رہنا چاہئے ۔ دولت اسلامیہ یا داعش القاعدہ سے علیحدہ شدہ ایک گروپ ہے اور اس نے عراق و شام میں ہزاروں کیلومیٹر کے علاقہ پر قبضہ کرلیا ہے اور وہاں اس نے اسلامی خلافت کا اعلان کردیا ہے ۔ ہیگل نے امریکی ایوان نمائندگان میں اظہار خیال کرتے ہوئے داعش کے خلاف امریکی حکمت عملی کی مدافعت کی تھی اور کہا تھا کہ عراقی افواج کی جانب سے بھی داعش کے خلاف کارروائیوں میں مدد فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی کارروائیوں کو امریکہ اپنے فضائی حملوں سے مدد فراہم کر رہا ہے ۔ انہوں نے ادعا کیا تھا کہ عراق کے کچھ حصوں میں داعش کی پیشرفت کو روک دیا گیا ہے۔