نئی دہلی 21 نومبر (سیاست ڈاٹ کام)اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ بیرون ملک دہشت گردی اور اس کو بیرونی تائید افغانستان کیلئے اصل چیلنج ہے ،سابق صدر افغانستان حامد کرزئی نے آج پاکستانی کے ساتھ امریکہ کی دوغلی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بارک اوباما سے کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کو ترغیب اور تخویف کی پالیسی ایک ساتھ استعمال نہیں کرنی چاہئے۔ حامد کرزئی نے حکومت ہند سے بھی خواہش کی کہ افغانستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے سلسلہ میں مزید کچھ کرے اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں حکومت ہند زیادہ سرگرم پالیسی اختیار کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور چین کو علاقائی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے اتحاد کرلینا چاہئے ۔ سابق صدر افغانستان نے اظہار افسوس کیا کہ انہوں نے پاکستان کے 20 دورے کئے لیکن کوئی بھی دورہ افغانستان۔ پاکستان تعلقات بہتر بنانے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوا ۔ انہوں نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ۔ اس سوال پر کہ کیا چور کوپکڑنے مالک مکان نے دروازہ کھلا رکھا تھاکا تبصرہ پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی کی طرف اشارہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک پارسی محاورہ ہے اور اس کا ہم معنی انگریزی محاوہ ’’خرگوش کے ساتھ دوڑنا اور کتے کے ساتھ شکار کرنا ‘‘ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہئے ۔ اس سوال پر کہ کیا وہ اس سے امریکہ کو واقف کرواچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران انہوں نے صدر امریکہ بارک اوباما سے یہ بات کہی تھی اور جواب میں انہیں ’’خاموشی ‘‘ ملی تھی۔ کرزئی نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا پیچھا کرنا چاہئے ۔ انہوں نے افغانستان کی مسلسل مدد پر ہندوستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ افغان فوج کو زیادہ طاقتور صلاحیت کا حامل بنانے کیلئے ہمیں ہندوستان سے بہت کچھ مدد حاصل کرنا ہے۔