بیدر میں حیدرآبادی نوجوان محمداعظم کی ہلاکت‘ 28 افراد گرفتار

واٹس ایپ کے دو ایڈمنس منوج اورامر‘دو خواتین بھی ملزمین میں شامل ‘بدبختانہ واقعہ میں10 ملازمین پولیس بھی زخمی

ایس ایم بلال
حیدرآباد ۔ /15 جولائی۔ بیدر پولیس نے ہجومی تشدد میں محمد اعظم کو ہلاک کرنے اور دیگر کو شدید زخمی کرنے کے الزام میں 28 خاطیوں کو گرفتار کرلیا ہے ۔ پولیس نے اس کارروائی میں واٹس اپ کے دو ایڈمین کو بھی گرفتار کیا ہے ۔ تفصیلات کے بموجب جمعہ کو حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے محمد اعظم جو گوگل کمپنی میں سافٹ ویئر انجنیئر تھے اپنے رشتہ داروں محمد سلمان ، محمد سالم عیدالکبیثی (قطری باشندے) ، نور اور دیگر کے ہمراہ رشتہ داروں سے ملاقات کیلئے بیدر گئے ہوئے تھے اور واپسی کے دوران بلکوت تانڈہ علاقہ میں اسکول بچوں کو چاکلیٹس تقسیم کررہے تھے کہ وہاں کی مقامی عوام نے انہیں بچوں کا اغواء کرنے والی ٹولی ہونے کا شبہ کرتے ہوئے ان پر حملہ کرکے شدید زخمی کردیا تھا جس میں اعظم کی موت واقع ہوگئی تھی ۔ بیدر ڈسٹرکٹ کے کمل نگر پولیس نے اس سلسلے میں ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا تھا جس میں ہجومی تشدد میں ملوث 200 افراد کی نشاندہی کی گئی جبکہ 40 افراد زدوکوب اور حملہ کرنے میں ملوث پائے گئے ۔ کملا نگر پولیس نے اس سلسلے میں فی الفور کارروائی کرتے ہوئے 28 ملزمین کو گرفتار کرلیا ہے ۔ جس میں دو خواتین اور دو کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں ۔ بیدر پولیس نے بتایا کہ ہجومی تشدد کے کیس میں واٹس اپ کے ذریعہ افواہیں پھیلانے والے ایڈمین منوج کمار اور اس کے ساتھی امر پاٹل کو بھی گرفتار کرلیا ہے جو ”Murki Mothers” نامی واٹس گروپ چلا رہے تھے ‘ اس گروپ کے ذریعہ حیدرآباد نوجوانوں کو بچوں کا اغواء کرنے والی ٹولی ہونے کی غلط اطلاعات بیدر میں عام کر دی تھی۔بیدر پولیس نے مزید بتایا کہ اس واقعہ میں 10 پولیس ملازمین بھی زخمی ہوئے ہیں ۔ پولیس نے ہجومی تشدد کے واقعہ کے بعد خاطیوں کی گرفتاری کیلئے مقامی ذرائع کی مدد سے بعض ایسے ویڈیوز حاصل کئے ہیں جس کی مدد سے خاطیوں کی نشاندہی ممکن ہوئی ہے ۔ انسپکٹر کمل نگر پولیس اسٹیشن مسٹر دلیپ ساگر نے سیاست نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی اب تک کی تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ ہجومی تشدد کا کلیدی ملزم کالی داس ہے جس نے محمد اعظم کے ہاتھ اور پیر رسی سے باندھ دیئے تھے اور ہجوم نے اس نوجوان پر حملہ کرکے اس کا قتل کردیا تھا ۔ محمداعظم اور اس کے ساتھیوں کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں مرکی ضلع میں محاصرہ کر کے ان پر بیک وقت حملہ کر دیا ۔ پولیس تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ حیدرآبادی نوجوانوں کو دوہزارکے ہجوم نے روکا تھا جس میں 200 افراد نے ان کا محاصرہ کیا تھا جبکہ 40افراد نے راستہ طورپر اعظم اور ان کے رشتہ داروں پر حملہ کر کے قتل کر دیا ۔ پولیس اس واقعہ کاسخت نوٹ لیتے ہوئے حملہ میں ملوث تمام خاطیوں کے موبائیل فون میں تشدد کے ویڈیوز اور دیگر مواد برآمد کرلیاہے ۔