حیدرآباد ۔ 20 ۔ مئی : ( پریس نوٹ ) : دکن وقف پراپرٹیز پروٹیکشن سوسائٹی اوقافی جائیدادوں کی صیانت کے اپنے مشن کو وسعت دیتے ہوئے سرزمین فلسطین میں حیدرآبادی اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ان کے بہتر استعمال کے لیے فلسطینی اتھاریٹی کے دستوری ذمہ داروں سے نمائندگی کی ہے ۔ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست کی سرپرستی میں جناب عثمان بن محمد الہاجری صدر دکن وقف پراپرٹیز سوسائٹی نے کل شام فلسطینی اتھاریٹی کے دستوری ذمہ داروں کو تحریری محضر پیش کرتے ہوئے سابق فرماں روا حیدرآباد ریاست میر عثمان علی خاں کی جانب سے فلسطین کے مقامات مقدسہ میں تعمیر کردہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کرنے اور ان کو حیدرآبادی زائرین کے لیے الاٹ کرنے کی خواہش کی ہے ۔ چیف ایڈیٹر روزنامہ رہنمائے دکن جناب سید وقار الدین قادری کی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک تقریب میں صدر مملکت فلسطین جناب محمود عباس کے موسومہ ایک مکتوب سفیر فلسطین برائے ہند ہزاکسیلینسی عدنان ابوالحیجہ کو ایک یادداشت پیش کی جب کہ تقریب میں موجود قاضی اعظم فلسطین و زیر نگران امور اوقاف الشیخ محمود الحباش اور وزیر فلسطین ہزایکسلینسی صالح فہید محمد کو بھی علحدہ علحدہ محضرات پیش کئے جس میں انہیں بتایا گیا کہ سابق ریاست حیدرآباد کے آخری فرماں روا میر عثمان علی خاں ایک نہایت ہی مخیر ، سخی اور نیک دل بادشاہ تھے جنہوں نے نہ صرف مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رباطیں تعمیر کی تھیں بلکہ مسلمانان عالم کے لیے تیسرے مقدس مقام قبلہ اول مسجد اقصیٰ کے شہر شہر قدس ( یروشلم ) میں بھی کئی جائیدادیں خریدتے ہوئے انہیں وقف کیا تھا
جن میں ایک جائیداد ’’ عثمان منزل ‘‘ سے موسوم ہے ۔ اس کے علاوہ جس طرح مکتہ المکرمہ اور مدینہ المنورہ ( مسجد نبوی شریف میں ) میں بجلی کی فراہمی کے لیے نظام دکن نے جنریٹر مہیا کیے تھے اسی طرح مسجد اقصیٰ میں بھی نظام دکن میر عثمان علی خاں مرحوم نے جنریٹر نصب کروائے اور یہاں کام کرنے والوں کی تنخواہیں بھی مقرر کی تھی ۔ محضر میں یہ بھی بتایا گیا کہ آج بھی مکہ مکرمہ میں ایک رباط موجود ہے جو حج زائرین اور معتمرین کو قیام کے لیے مفت فراہم کی جاتی ہے ۔ محضر میں فلسطینی حکام سے خواہش کی گئی کہ شہر قدس میں میر عثمان علی خاں کی جانب سے شہر قدس میں وقف کردہ جائیدادوں کی نشاندہی اور ان کا تحفظ کیا جائے ۔ محضر میں یہ بھی بتایا گیا کہ سابق ریاست حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے مسلمان سال بھر انفرادی اور وفود کی شکل میں بیت المقدس کی زیارت کرتے رہتے ہیں اس لیے شہر قدس میں آصف جاہی فرماں روا کی وقف کردہ جائیدادوں میں حیدرآبادی زائرین کو مفت قیام و رہائش کی سہولتیں فراہم کی جائیں جس سے فلسطین اور ہندوستان کے دیرینہ تعلقات میں مزید استحکام حاصل ہوگا ۔ فلسطینی حکام کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس خصوص میں آرکیالوجی اور نظام ٹرسٹ کے پاس دستیاب دستاویزات حاصل کر کے فلسطینی حکام کو روانہ کئے جائیں گے تاکہ ان کی نشاندہی میں آسانی ہو ۔ فلسطینی حکام نے تیقن دیا کہ حیدرآبادی اوقافی جائیدادوں کی نشاندہی و صیانت اور ان کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جائے گا اور اس خصوص میں مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا ۔
اس موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی کو بھی اس محضر کی ایک نقل حوالہ کرتے ہوئے ان سے خواہش کی گئی کہ وہ اس خصوص میں سرکاری سطح پر فلسطینی اتھاریٹی سے رابطہ قائم کرتے ہوئے ارض مقدس میں موجود حیدرآبادی اوقافی جائیدادوں کی صیانت اور ان کے بہتر استعمال کو یقینی بنائیں ۔ جناب محمود علی نے تیقن دیا کہ وہ خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے ارض فلسطین میں موجود حیدرآبادی اوقافی جائیدادوں کی نشاندہی اور ان کی صیانت کے لیے موثر نمائندگی کریں گے ۔ جناب سید وقار الدین قادری چیف ایڈیٹر رہنمائے دکن نے فلسطینی حکام کو دکن وقف پراپرٹیز پروٹیکشن سوسائٹی اور جناب عثمان بن محمد الہاجری کی صیانت اوقاف کے ضمن کی جانے والی کاوشوں سے واقف کرواتے ہوئے ان کی خدمات کی ستائش کی اور یہ بھی کہا کہ وہ بھی اس مہم کی سرپرستی کرتے رہیں گے اور دیگر فلسطینی حکام سے بھی اس خصوص میں اپنے طور پر نمائندگی کریں گے تاکہ حیدرآبادی زائرین کو شہر قدس میں قیام کی سہولتیں میسر آئیں ۔ قاضی اعظم الشیخ محمود الحباش نے جو صدر فلسطین ہزہائی نیس محمود عباس کے مشیر بھی ہیں حیدرآبادی معتمرین اور عازمین حج سے خواہش کی کہ وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے سفر میں مسجد اقصیٰ ( بیت المقدس ) کی زیارت کو بھی شامل کریں ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآبادی عازمین براہ اردن ، فلسطین کا سفر کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے حیدرآبادی زائرین کو تمام ممکنہ سہولتیں فراہم کرنے کا تیقن دیا ۔۔