یروشلم ۔ 28 اپریل ۔(سیاست ڈاٹ کام) بیت المقدس میں تقریباً 100یہودی اسرائیلی فوج اور پولیس کی سخت سکیورٹی میں گھس پڑے اور مسجد اقصیٰ میں عبادت میں مصروف فلسطینیوں کے ساتھ بدتمیزی کی ، عبادت گاہ کی بیحرمتی کرنے کے ساتھ ساتھ قبلہ اول میں توڑپھوڑ بھی کی۔ اس کارروائی میں اسرائیلی پولیس اور انٹلیجنس ایجنسیوں کے سادہ لباس میں ملبوس عہدیدار بھی ملوث ہوئے ۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے 85 یہودی اسرائیلی نوآبادکار تھے جبکہ 17 یہودی طلباء بتائے گئے ہیں۔ فلسطینی محکمہ اوقاف کی رپورٹ میں بتایاگیا کہ اسرائیلی نوآبادکاروں نے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی اور گزشتہ دو دنوں سے یہ لوگ یہاں فلسطینیوں کو پریشان کررہے ہیں ۔جب یہودی باب ماریشیس سے داخل ہوکر مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کرتے جارہے تھے، اس موقع پر اسرائیل نے اپنی بھاری فوج کو تعینات کر رکھا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی پولیس نے فلسطینی عبادت گزاروں کے ساتھ بدتمیزی کی اور ان کی شناختی پریڈ کروانے کے بعد انھیں
مسجد اقصیٰ میں عبادت کرنے سے روک دیا۔ اسرائیلی فوج کے اس رویہ پر فلسطینیوں نے احتجاج کیا ۔ پولیس اور اسرائیلی فوج کی غنڈہ گردی کے خلاف نعرے بلند کئے گئے۔ گزشتہ روز جمعہ کے پیش
نظر اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے خلاف رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔ غزہ پٹی میں سینکڑوں فلسطینی جمع ہوکر اسرائیل کے باڑ سرحدی ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کی جس پر اسرائیل کی جانب سے شدید حملے کئے گئے اور آنسوگیاس شیل برسائے گئے ۔ اس حملے میں 3 فلسطینی ہلاک اور درجنوں زخمی ہونے کے بعد تشدد بھڑک اُٹھا جب اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیدار نے اسرائیل پر زور دیاکہ وہ احتجاجیوں کے خلاف طاقت استعمال نہ کرے۔ 30مارچ جاری تشدد میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 38 احتجاجی جاں بحق ہوگئے اور 1600 زخمی بتائے گئے ہیں۔