پٹنہ۔ 20 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کل بہار کے 10 اسمبلی نشستوں کیلئے ضمنی انتخابات اس بات کا فیصلہ کردیں گے کہ کیا وزیراعظم نریندر مودی کا جادو اب بھی ریاست میں سَر چڑھ کر بول رہا ہے یا لالو پرساد اور نتیش کمار کا جادو موثر ہے جنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کامیابی کا ایک فارمولہ تیار کرلیا ہے۔ ضمنی انتخابات پہلا بڑا سیاسی موقع ہیں۔ عام انتخابات کے بعد یہ ضمنی انتخابات بتادیں گے کہ آئندہ سال کے ریاستی اسمبلی انتخابات میں ہوا کا رُخ کیا ہوگا۔ یہ ضمنی انتخابی نتائج ’’منڈل طاقتوں‘‘ کے اتحاد کے تجربہ کی آزمائش بھی ثابت ہوں گے جس کی نمائندگی لالو پرساد کی آر جے ڈی اور نتیش کمار کی جے ڈی (یو) کانگریس کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہ ظاہر ہوجائے گا کہ کیا یہ اتحاد بی جے پی کی بازیگری کو روکنے میں کامیاب ہوسکے گا ۔ ضمنی انتخابات کی سیاسی بقاء کیلئے نمایاں اہمیت کے پیش نظر لالو پرساد اور نتیش کمار نے 10 انتخابی حلقوں میں کئی دورے کئے ہیں حالانکہ ریاست کے باہر این ڈی اے اُمیدواروں کی انتخابی مہم چلانے کیلئے کئی بڑے قائدین عارضی قیام کئے ہوئے ہیں۔ ریاستی بی جے پی قائدین اور ایل جے پی کے صدر رام ولاس پاسوان اور ان کی حلیف راشٹریہ لوک تانترک سمتا پارٹی یا اوپیندر کشواہا پوری ریاست کا دورہ کرتے ہوئے تائید حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ضمنی انتخابات حاجی پور، چھاپرا ، محی الدین نگر، پربتا ، بھاگلپور، راج نگر ، جالم موہنیا ، نرکٹ گنج اور بانکا میں مقرر ہیں۔ 5 خواتین اُمیدوار بھی مقابلہ میں ہیں۔