بہار میں اقتدار کی رسہ کشی ۔ چیف منسٹر جیتن رام کی برطرفی کا خطرہ

پٹنہ۔/6فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) جنتا دل متحدہ کی قیادت سے محاذ آرائی کا مظاہرہ کرنے والے چیف منسٹر بہار جیتن رام مانجھی نے کل طلب کئے گئے جنتا دل ( یو ) مقننہ پارٹی کے اجلاس کو غیر مجاز قرار دیا اور بحیثیت قائد ایوان کو 20 فبروری کو مقننہ پارٹی اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ چیف منسٹر کے دفتر سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ مانجھی نے 20فبروری کی شام 7بجے جے ڈی یو مقننہ پارٹی کا اجلاس طلب کیا جبکہ پارٹی صدر شرد یادو کی جانب سے 7فبروری کو طلب کردہ اجلاس کو چیف منسٹر نے غیر مجاز قرار دیا ہے اور بتایا کہ مقننہ پارٹی اجلاس کی طلبی کا اختیار صرف لیجسلیچر پارٹی لیڈر ( چیف منسٹر ) کو حاصل ہے اور 7فبروری کو طلب کئے گئے اجلاس کی نوٹس غیر مجاز ہے۔ تاہم جنتا دل متحدہ کے جنرل سکریٹری کے سی تیاگی نے پارٹی صدر کی جانب سے طلب کئے گئے مقننہ پارٹی اجلاس کو جائز اور درست قرار دیا اور بتایا کہ پارٹی ذرائع کے مطابق قاعدہ 21کے تحت صدر کو مقننہ پارٹی اجلاس طلب کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم بی جے پی نے حکمران جماعت میں اقتدار کی رسہ کشی پر کہا کہ ’’ دیکھو اورانتظار کرو ‘‘ کا موقف اختیار کیا ہے۔ سینئر بی جے پی لیڈر سوشیل کمار مودی نے کہا کہ ہم صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کریں گے اور چیف منسٹر جیتن رام مانجھی کو ان کی پارٹی نے برطرف کردیا تو بی جے پی اپنی تائید کا اعلان کرے گی۔ ریاستی وزیر پارلیمانی اُمور شراون کمار نے بھی کل طلب کئے گئے مقننہ پارٹی اجلاس پر چیف منسٹر کے نقطہ نظر کو مسترد کردیا اور کہا کہ جے ڈی یو کے دستور نے پارٹی صدر کو یہ خصوصی اختیار دیا ہے کہ وہ مقننہ پارٹی اجلاس طلب کرسکتے ہیں۔ چیف منسٹر کی جانب سے 20فبروری کو طلب کردہ مقننہ پارٹی اجلاس کے بارے میں شراون کمار چونکہ اسمبلی میں جے ڈی یو چیف وہپ اور نتیش کمار کے بااعتماد رفیق ہیں کہا کہ کل کے اجلاس میں اس پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ آج وزیر فروغ انسانی وسائل برسین پٹیل نے مانجھی سے یگانگت کا اظہار کیا

اور بتایا کہ شرد یادو کی جانب سے کل طلب کئے گئے اجلاس میں وہ شرکت نہیں کریں گے۔ وزیر دیہی ترقیاتی نتیش مصرا نے بھی اس طرح کے نقطہ نظر کا اظہار کیا ہے جبکہ وزیر صحت عامہ و طبی تعلیم مہا چندرا پرسا سنگھ اور وزیر شہری ترقیات سمراٹ چودھری نے کل شب چیف منسٹر کی قیامگاہ پہنچ کر اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں جے ڈی یو کے باغی ارکان اسمبلی گیانندر سنگھ اور رویندرا نے بھی کل رات چیف منسٹر سے ملاقات کرکے یہ وعدہ کیا کہ ارکان اسمبلی کی قابل لحاظ تعداد ان کی تائید کرے گی۔ جنتا دل متحدہ لیڈر کے سی تیاگی نے پٹنہ میں شرد یادو سے ملاقات کے بعد کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے چیف منسٹر کے متنازعہ ریمارکس اور سرگرمیوں کے پیش نظر انہیں ذمہ داری سے سبکدوش کردینے کا وقت آگیا ہے کیونکہ پارٹی قیادت انہیں سدھرنے کا موقع فراہم کیا تھا لیکن وہ باز نہیں آئے۔انہوں نے بتایا کہ بہار میں2010 کا عوامی فیصلہ نتیش کمار کے حق میں آیا تھا ،مانجھی صرف ایک عارضی انتظام تھے۔ تیاگی نے کہا کہ اسمبلی میں جے ڈی یو کو خاطر خواہ اکثریت حاصل ہے اور ایوان اسمبلی میں یہ ثابت کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنتا دل متحدہ حکومت کی راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس تائید کررہی ہے اور243 رکنی اسمبلی میں حکمراں جماعت کو 122ارکان کی تائید حاصل ہے اگرچیکہ جے ڈی یو کے 115 ارکان ہیں لیکن تحریک اعتماد پر ووٹنگ کے وقت بعض باغی ارکان مخالفت کرسکتے ہیں۔کانگریس نے جوکہ مانجھی حکومت کی باہر سے تائید کررہی ہے کہا کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

پردیش کانگریس صدر اشوک چودھری نے کہا کہ صورتحال پر تبصرہ قبل از وقت ہوگا ، اور کل شام جے ڈی یو مقننہ پارٹی اجلاس کے بعد ہی ردعمل ظاہر کیا جائے گا۔ تاہم راشٹریہ جنتا دل نے ریاست میں سیاسی تغیرات کو بدبختانہ قرار دیا۔ پارٹی ترجمان مندریکا سنگھ یادو نے بتایا کہ صدر آر جے ڈی لالو پرساد یادو نے پہلے ہی یہ واضح کردیا ہے کہ ان کی پارٹی بہار میں جے ڈی یو کی تائید کرتی ہے نہ کہ کسی شخصیت کی۔ کانگریس کا بھی نقطہ نظر ہے کہ جاریہ سال اسمبلی انتخابات میں نتیش کمار کی قیادت میں تمام سیکولر طاقتوں کو بی جے پی کے خلاف متحد ہوجانا چاہیئے جبکہ سینئر بی جے پی لیڈر سشیل کمار مودی نے نتیش کمار کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ گزشتہ سال مئی میں نتیش کمار نے استعفیٰ دیا تھاکیونکہ عوام نے پارلیمانی انتخابات میں ان پر اعتماد نہیں کیا تھا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ آیا چیف منسٹر کی کرسی پر دوبارہ قبضہ کرلینے سے عوام ان پر کیونکر بھروسہ کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے مانجھی کو مشورہ دیا کہ فی الفور اسمبلی تحلیل کرتے ہوئے از سر نو انتخابات تک عبوری چیف مسٹر کی حیثیت سے برقرار رہیں۔