بھیلائی ۔ 13 ۔ جون : ( سیاست ڈاٹ کام ) : چھتیس گڑھ کے بھیلائی اسٹیل پلانٹ میں گذشتہ روز پیش آئے زہریلی گیاس کے اخراج المیہ کا مجسٹریل تحقیقات کا حکم دیدیا گیا ہے ۔ اس حادثے میں کم از کم 6 افراد ہلاک ہوگئے تھے جس میں دو ڈپٹی جنرل مینجر بھی شامل ہیں ۔ تاہم متعلقہ عہدیداروں نے اسی امید کا اظہار کیا ہے کہ مہلوکین کی تعداد میں اضافہ کی توقع نہیں ہے ۔ چونکہ وہ تمام افراد جو اس زہریلی گیاس کے اخراج کی وجہ سے بیمار ہوگئے تھے ، کی حالت خطرات سے باہر ہیں ۔ ڈرگ کلکٹر آر سنگیتا نے آج کہا کہ کل کے حادثے کی تحقیقات کا حکم دیدیا گیا ہے ۔
جس کی قیادت ڈرگ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کریں گے ۔ ذرائع کے مطابق گذشتہ روز بھیلائی کے اسٹیل پلانٹ سے زہریلی گیاس کے اخراج کے سبب مجموعی طور پر 36 افراد متاثر ہوئے تھے جن میں سے پانچ افراد دوران علاج فوت ہوگئے جب کہ ایک کنٹراکٹ لیبر وکاس ورما کی نعش پمپ ہاوز کے پاس پائی گئی جہاں یہ حادثہ پیش آیا ۔دریں اثناء وزیر اعظم نریندر مودی نے اس المناک حادثے پر رنج کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی چیف منسٹر امن سنگھ کو مذکورہ حادثے کی تحقیقات کے لیے کہا
اور ہر ممکن مدد کا تیقن دیا۔ انہوں نے مہلوکین کے افراد خاندان کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے اوراسٹیل اتھاریٹی آف انڈیا لمٹیڈ چیرمین سی ایس ورما جنہوں نے آج صبح مقام حادثہ کا دورہ کیا ہے کہا کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائے گی اور ان تمام افراد کو جو اس حادثے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں انہیں تمام تر امداد فراہم کی جائیں گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ، اب اس حادثے میں مزید اموات کا اندیشہ نہیں ہے ۔ تاہم آج پلانٹ کے مزید 4 ملازمین کے بیمار ہونے کی اطلاع ملی ہے ۔ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے اس واقعہ کی تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ چونکہ جتنے افراد کو دواخانے میں سے علاج کے لیے منتقل کیا گیا تھا۔ اس میں سے 21 افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے ۔