بھنڈرا ںوالا کا معاون دہشت گرد گرسیوک سنگھ گرفتار: دہلی پولیس

53 سالہ گرسیوک خالصتان کمانڈو فورس کا عسکریت پسند ، درجنوں دہشت گردانہ کارروائیوں، قتل، ڈکیتی و دیگر جرائم میں ملوث
نئی دہلی۔13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جرنیل سنگھ بھنڈراں والا جسے 1984ء میں آپریشن بلو اسٹار میں انڈین آرمی نے ہلاک کردیا تھا، اس کا معاون اور ممنوعہ دہشت گرد گروپ کا رکن دہلی پولیس کی جانب سے پکڑلیا گیا ہے، عہدیداروں نے آج یہ بات کہی۔ 53 سالہ ملزم گرسیوک سنگھ خالصتان کمانڈو فورس کاممبر ہے اور کے سی ایف چیف پرم جیت سنگھ پنجواڑ کی ہدایت پر اپنی آرگنائزیشن کو ازسرنو تشکیل دینے کی منصوبہ بنی کررہا تھا۔ پولیس نے کہا کہ پرم جیت پاکستان میں رہتا ہے۔ گرسیوک کا جگ تار سنگھ ہواڑا اور دیگر دہشت گرد جو ہندوستان کی مختلف جیلوں بشمول تہاڑ جیل میں بند ہیں، ان کے ساتھ بھی رابطہ تھا۔ پولیس نے مزید کہا کہ گرسیوک کو آئی ایس بی ٹی دہلی کی کرائم برانچ نے 12 مارچ کو گرفتار کیا جہاں وہ اپنے رابطوں والے کسی شخص سے ملاقات کے لیے آیا تھا۔ گرسیوک سابق میں دہشت گردی کی مختلف سرگرمیوں، پولیس عہدیداروں اور مخبروں کے قتل، بینک میں ڈکیتیوں اور پولیس اسٹیشنوں سے لوٹ مار و دیگر جرائم کے زائد از 50 کیسوں میں ملوث ہے۔ ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (کرائم) اجیت کمار سنگلا نے یہ بات بتائی۔ اسے مختلف کیسوں میں 26 سال سے زیادہ مدت کے لیے جیل بھیجاگیا تھا اور وہ بعض پاکستان نشین دہشت گردوں کے ساتھ باقاعدگی سے ربط میں تھا۔ پولیس نے بتایا کہ گرسیوک کی پیدائش پنجاب کے ضلع لدھیانہ میں موضع رائے کوٹ میں رہنے والے کسان گھرانے میں ہوئی۔ اس کا بڑا بھائی سورن سنگھ 1980 کے دہے میں پنجاب میں بھنڈرا والا زیر قیادت دہشت گرد گروپ کا ممبر ہوا کرتا تھا۔ گرسیوک بھی 1982ء میں اس گروپ میں شامل ہوگیا۔ 1984

ء میں جب بھنڈرا والا کو ہلاک کردیا گیا، اس کے زیادہ تر معاونین پاکستان کو فرار ہوگئے جہاں آئی ایس آئی نے انہیں ٹریننگ دی اور ان کی مدد کی۔ اس وقت کے دوران گرسیوک دہشت گرد مانویر سنگھ چھیڈو کی نوتشکیل شدہ خالصتان کمانڈو فورس (کے سی ایف) میں شامل ہوگیا اور سرگرمی سے مخالف قوم سرگرمیوں میں حصہ لینے لگا۔ گرسیوک اپنے ساتھیوں کے ہمراہ انڈین سکیوریٹی ایجنسیوں کے مشتبہ مخبروں کے درجنوں میں قتل میں ملوث رہا اور پنجاب، دہلی اور راجستھان میں بینک ڈکیتیاں بھی کیا۔ مئی 1984ء میں ملزم نے اپنے ساتھیوں لبھ سنگھ، گریندر سنگھ اور سورنجیت سنگھ کے ساتھ اخبار ہند سماچار کے گروپ ایڈیٹر رمیش چندر کو جالندھر میں ہلاک کیا تھا۔ 1986ء میں گرسیوک اور اس کے ساتھیوں نے جالندھر میں سابق ڈی جی پی پنجاب جولیو ریبیریو کی قیامگاہ پر حملہ کیا۔ اسی سال ملزم اور اس کے ساتھیوں نے پنجاب پولیس کے 8 جوانوں کو ہلاک کیا اور کے سی ایف سربراہ جرنال لبھ سنگھ اور دہشت گردوں گریندر پال سنگھ بھولا اور سورنجیت سنگھ کو فائرنگ کے بعد جالندھر میں کوٹ کامپلکس میں پولیس کی تحویل سے آزاد کرالیا۔ ملزمین نے پنجاب میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ بھی کیا تھا اور 16 رائفلیں، 6 کاربائین کارتوس، دو ریوالور، پولیس جیپ اور فیئٹ کار لے کر فرار ہوگئے تھے۔