بڑے گوشت کے تاجروں کو ہراساں نہ کرنے کی عدالتی ہدایت

ممبئی 12 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بمبئی ہائیکورٹ نے آج حکومت مہاراشٹرا سے کہاکہ وہ مویشیوں اور اُن کے ڈھانچوں کو ضائع کرنے کے لئے چلر اور ٹھوک فروشوں کو واجبی مہلت دینے پر غور کریں۔ یہ مویشی قانون کے نفاذ کے بعد اُن کے قبضہ میں ہیں۔ نیا قانون بیلوں اور نر بھینسوں کے ذبیحہ پر امتناع عائد کرتا ہے۔ جسٹس وی ایم کنڑے اور جسٹس اے آر جوشی پر مشتمل بنچ ایک درخواست مفاد عامہ کی سماعت کررہی تھی جس میں بڑے گوشت کے تاجروں کی جانب سے امتناع پر ازسرنو غور کرنے اور مویشیوں اور ڈھانچوں کو ضائع کرنے کے لئے اُن کو مہلت دینے پر غور کیا جائے۔

عدالت پہلے ہی تاجروں کو راحت رسانی سے انکار کرچکی ہے اور کہہ چکی ہے کہ مہاراشٹرا تحفظ مویشیان (ترمیمی) قانون کے نفاذ کے بعد صرف عہدیداروں پر کارروائی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ جسٹس کنڑے نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیتے ہوئے کہاکہ وہ اِس معاملہ کو نہ اُلجھائیں اور اِسے ایک مذہبی مسئلہ نہ بنائیں۔ اُنھوں نے حکومت سے سوال کیاکہ کیا آپ اُن تمام کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے جن کے قبضہ میں مویشی یا اُن کے ڈھانچے ہوں۔ اُنھوں نے حکومت سے خواہش کی کہ مویشیوں اور ڈھانچوں کو ضائع کرنے کے لئے تاجروں کو موزوں مہلت دینے پر غور کیا جائے۔ عدالت نے حکومت سے کہاکہ مثال کے طور پر 7 دن کی مہلت دی جاسکتی ہے۔

اُنھوں نے کہاکہ اِس طرح سے تاجروں کو ہراساں کرنا مناسب نہیں ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل سنیل منوہر نے عدالت سے کہا تھا کہ وہ اُن افراد کے خلاف مقدمہ کی کارروائی کا آغاز کریں گے جن کے قبضہ سے بیل اور نر بھینسیں دستیاب ہوں۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت کو ہدایت دی جائے کہ چلر اور ٹھوک فروشوں کو ڈھانچوں کو ضائع کرنے کے لئے کتنی مہلت دی جاسکتی ہے۔ اُنھوں نے عدالت کو یہ بھی اطلاع دی کہ نیا قانون 4 مارچ سے لاگو ہوچکا ہے جبکہ سرکاری گزٹ میں اعلامیہ شائع کیا گیا ہے۔ عدالت نے کل حکومت سے وضاحت طلب کی تھی کہ اُس تاریخ کی صراحت کی جائے جس سے قانون نافذ ہوا ہے۔ نر گاؤ کے گوشت کے ٹھوک فروش تاجروں نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیس نے چلر فروشوں اور ٹھوک فروشوں کے پاس سے ریاستی حکومت کی جانب سے اعلامیہ کے اجراء سے پہلے ہی مویشی چھین لئے ہیں۔ نئے قانون کے تحت جو حال ہی میں صدرجمہوریہ کی منظوری حاصل کرچکا ہے، کوئی بھی شخص اگر نر گاؤ کا گوشت فروخت کرتے ہوئے یا اِسے قبضہ میں رکھتے ہوئے پایا جائے تو اُسے 5 سال کی سزائے قید اور 10 ہزار روپئے کا جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔