بوکوحرام کے ذریعہ 200 مغویہ لڑکیاں ہنوز لاپتہ : فوجی سربراہ

ابوجہ ۔ 18 مارچ۔(سیاست ڈاٹ کام) نائیجریائی افواج جو شمال مشرقی علاقہ میں شورش پسندی سے نمٹنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تاہم افواج کو بھی گیارہ ماہ قبل بوکو حرام کے ذریعہ 200 مغویہ لڑکیوں کے بارے میں ہنوز کوئی معلومات نہیں ہے۔ لیفٹننٹ جنرل کینتھ مینماہ نے کل اخباری نمائندوں کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صرف اتنا کہا تھا کہ اب تک مغویہ لڑکیوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ اخباری نمائندوں نے اُن سے مغویہ لڑکیوں کے حشر کے بارے میں سوال کیا تھا۔ مسٹر کینتھ نے کہا کہ تمام ایسے علاقے جنھیں آزاد کروالیا گیا ہے وہاں تحقیقات کی گئی۔ البتہ بوکو حرام جنگجو جس مقام سے فرار ہوتے ہیں تو وہ بھاگتے وقت اپنی تمام اشیاء ( چاہے وہ لڑکیاں ہی کیوں نہ ہوں ) اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ جن سے ہم نے رابطہ کیا ہے انھوں نے جو بیان دیا ہے اُس سے یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ مغویہ چیبوک لڑکیاں ہنوز وہیں ہیں یا پھر انھیں کسی دیگر مقام پر لیجایا گیا ہے ۔

انھوں نے توقع ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بوکو حرام کی سرحد یں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ سکڑتی جارہی ہیں لہذا مغویہ لڑکیوں کے محل وقوع کے بارے میں جلد ہی پتہ چل جائے گا ۔ یہاں اس بات کاتذکرہ ایک بار پھر ضروری ہے کہ بوکوحرام شورش پسندوں نے اپریل 2014 ء میں چیبوک سے 276 اسکولی لڑکیوں کا اغواء کرلیا تھا جس کے بعد عالمی سطح پر اغواء کی مذمت کی گئی تھی ۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے مغویہ لڑکیوں کی رہائی کیلئے موثر اقدامات نہیں کئے جبکہ گزشتہ سال ہی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے انکشاف کیا تھاکہ فوج کو یہ معلوم ہے کہ مغویہ لڑکیوں کو کہاں رکھا گیا ہے ۔ دریں اثناء نائیجیریا کی قومی سلامتی ترجمان مائیک عمیری نے گزشتہ ہفتہ اعلان کیا تھا کہ بوکوحرام کے قبضہ سے 36 مستقروں کو دوبارہ آزاد کروالیا گیا ہے جن میں یوبے اور اڈاماوا اسٹیٹس کو مکمل طورپر آزاد کروایا گیا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ 57 لڑکیاں بوکوحرام کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی تھیں جبکہ 219 لڑکیاں اُن کے قبضہ میں ہیں۔