ڈھاکہ 10 فروری (سیاست ڈاٹ کام)بنگلہ دیش کے ایک بڑے سرکاری دواخانہ میں 12 گھنٹوں کے دوران کم سے کم 10 نومولود بچے پر اسرار حالات میں فوت ہوگئے جس کے بعد حکام نے وجوہات کا پتہ چلانے کیلئے تحقیقات کا اآغاز کردیا ہے۔ شمال مشرقی شہر ہلٹ میں واقع عثمانی میڈیکل کالج و جنرل ہاسپٹل میں گذشتہ روز 10 بجے فوت ہوگئے ۔ ان میں ایک دیڑھ سالہ بچہ بھی شامل ہے ۔ اس دواخانہ کے ڈپٹی ڈائرکٹر عبدالسلام نے کہا کہ اکثر نومولود سانس لینے میں دشواری کے عارضہ کے سبب فوت ہوگئے ہیں۔ چند بچے پیدائش کے وقت نمونیا اور دیگر پیچیدہ عارضوں سے فوت ہوئے ہیں۔ عبدالسلام نے کہا کہ ’’لیکن ہم ایک پروفیسر کے بشمول چار ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دیئے ہیں جو اموات کی تحقیقات کرے گی ۔ کمیٹی کو اندرون 24 گھنٹے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے‘‘۔ اس دوران ایک مقامی اخباری نمائندہ نے کہا کہ اس دواخانہ میں اندرون چند گھنٹے کئی بچوں کی اموات کو دیکھنے کے بعد خوف و سنسنی کے شکار کئی مریضوں اور بالخصوص بچوں کے رشتہ داروں نے دواخانہ میں زیر علاج بچوں کو گھر واپس لیجانے کی کوشش کی ۔ عوام کی کثیر تعداد ہاسپٹل پر جمع ہوگئی اور نومولود بچوں کے والدین سے تفصیلات دریافت کرنے کی کوشش کی۔ متوفی بچوں کے خاندانوں نے ڈاکٹروں پر لاپرواہی کا الزام عائد کیا ۔ عبدالسلام نے کہا کہ اس ہسپتال میں عام طور پر روزانہ تین تا چار بچے قبل از وقت زچگی کی پیچیدگیوں کے سبب فوت ہوئے ہیں لیکن یہ اعتراف بھی کیا کہ اس مرتبہ اموات کی تعداد معمول سے زیادہ ہے ۔