بنگلہ دیش میں بلاگر کی ہلاکت مشتبہ شخص گرفتار

ڈھاکہ۔ 2 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش میں سکیورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ آج ایک اسلامی بنیاد پرست کو گرفتار کرلیا گیا جس نے مشتبہ طور پر سرکردہ امریکی بلاگر اویجیت رائے کو ہلاک کیا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کے کٹر مخالف اویجیت کو گزشتہ ہفتہ بہیمانہ انداز میں چاقو گھونپ کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ ریاپڈ ایکشن بٹالین کے عہدیداروں نے کہا کہ خرابی شفیع الرحمن نے اویجیت کو ماضی میں آن لائن دھمکیاں دینے کا اعتراف کرلیا ہے۔ ریاپڈ ایکشن بٹالین میں ذرائع ابلاغ اور قانونی شعبہ کے ڈائریکٹر کمانڈر مفتی محمود خاں نے کہا کہ اس (فرابی) ن اویجیت کو ہلاک کرنے اپنے بیانات کا اعتراف کرلیا ہے جو اس نے کئی مرتبہ دیا تھا‘‘۔ اویجیت کو چار دن قبل ایک نامعلوم حملہ آور نے اس وقت چاقو گھونپ کر ہلاک کردیا جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ ڈھاکہ کے ایک مقام سے گذر رہے تھے۔ کمانڈر محمود خاں نے کہا کہ فرابی کو آج صبح ڈھاکہ کے جاترا جاڑی بس اسٹینڈ پر گرفتار کیا گیا۔ فرابی جو چٹگانگ یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کا ڈراپ آؤٹ سے پہلی مرتبہ اس وقت مشہور ہوا جب اس نے ایک مقتول بلاگر رجیب حیدر کی نماز جنازہ کی امامت کرنے والے امام کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی، جس پر اس کو موت کی دھمکیاں دینے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ بعدازاں رہائی عمل میں آئی تھی۔ فرابی پانچ سال قبل فیس بُک پر اویجیت سے رابطہ کیا تھا اور کئی موقعوں پر بحث کی تھی۔ بعدازاں اویجیت نے اپنے صفحہ پر فرابی کو ہلاک کردیا تھا، تاہم فرابی نے 25 فروری کو فیس بُک پر لکھا تھا کہ ’’اویجیت کو ہلاک کرنا بنگالی مسلم کا مقدس فریضہ ہے‘‘۔ 9 فروری کو فرابی نے مزید لکھا تھا کہ اویجیت کو فی الحال ہلاک نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ امریکہ میں رہتا ہے۔