نئی دہلی۔6جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان نے بنگلہ دیش کے’’ پارلیمانی انتخابات کے دوران تشدد کی مذمت کرتے ہوئے آج کہا کہ رائے دہی ایک دستوری تقاضہ ہے اور اس ملک میں جمہوری عمل کو اپنے ضابطہ کے مطابق تقاضہ کے تکمیل کی اجازت دی جائے ۔ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم اپوزیشن کے بائیکاٹ اور پُرتشدد جھڑپوں کے دوران منعقدہ ان متنازعہ انتخابات میں وزیراعظم شیخ حسینہ تین چوتھائی اکثریت کے حصول کے ساتھ نئی حکومت تشکیل دینے کیلئے تیار ہوچکی ہیں ۔ دفتر اُمور خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ بنگلہ دیش میں 5جنوری کو منعقدہ عام انتخابات ایک دستوری تقاضہ تھا جو بنگلہ دیش کے داخلی و دستوری عمل کا حصہ ہیں ۔ یہ بنگلہ دیش کے عوام پر منحصر ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں اور اپنے نمائندوں کو اس انداز میں منتخب کریں کہ وہ ان کی اُمنگوں کی تکمیل کرسکیں ‘‘ ۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ’’ تشدد آگے کے راستہ کا تعین نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کو ایسا کرنے دیا جانا چاہیئے ۔
بنگلہ دیش میں جمہوری عمل کو اپنے طریقہ کار کے مطابق کام کرنے کی اجازت دی جائے ‘‘ ۔ اصل اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ( بی این پی) نے اپنی کلیدی حلیف جماعت اسلامی کے ساتھ نہ صرف انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا بلکہ رائے دہی کو روکنے کیلئے ملک گیر پیمانے پر پُرتشدد مہم چلائی تھی ۔ رائے دہی کے دوران پیش آئے تشدد پر مختلف واقعات میں گذشتہ روز کم سے کم 17افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق 300 حلقوں کے منجملہ 107 پر عوامی لیگ اور 16پر اس کی حلیف جاتیہ پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ 127نشستوں پر بلامقابلہ انتخاب عمل میں آئے ۔ اس طرح عوامی لیگ کو اب 230 نشستیں حاصل ہوچکی ہیں جس کے ساتھ ہی 10ویں پارلیمنٹ میں بھی شیخ حسینہ کی پارٹی عوامی لیگ کو 9ویں پارلیمنٹ کی طرح تین چوتھائی اکثریت حاصل ہوگئی ہے ۔